میرے شوہر سے میری چھوٹی سی بات پر بحث ہو رہی تھی۔ ہم راستے میں تھے۔ جب بھی میں اپنے میکے جاتی ہوں تو وہ لڑتے ہیں۔ اس بار مجھے بھی غصہ آ گیا اور بحث زیادہ بڑھ گئی۔ جذبات میں آ کر انہوں نے مجھ سے کہا کہ ”تم اپنے گھر جاؤ، میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں“۔ پھر یہی بات دو بار کہی۔ تو کیا دو طلاقیں ہو گئیں؟یہ کہنے کے بعد وہ بہت پشیمان تھے۔
سائلہ کے شوہر نے جب دو دفعہ یہ جملہ ”میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں“ کہہ دیا ہے تو اس سے سائلہ پر دو رجعی طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ جس کا حکم یہ ہے کہ سائلہ کے شوہر کو دورانِ عدت( اگر سائلہ حمل سے نہ ہو تو تین ماہواریاں پوری ہونے سے قبل اور اگر حمل سے ہو تو بچہ بچی کی پیدائش تک) رجوع کرنے کا اختیار ہے، بایں طور کے وہ زبانی سائلہ سے کہہ دے کہ ”میں تجھ سے رجوع کرتا ہوں“ یا عملی طور پر سائلہ سے ازدواجی تعلقات (ہمبستری یا بوس و کنار) قائم کرے۔ بہر دو صورت رجوع کے بعد دونوں کا نکاح بدستور برقرار رہے گا۔ دونوں ازدواجی حیثیت سے ساتھ رہ سکیں گے۔ لیکن اگر دورانِ عدت سائلہ کے شوہر نے رجوع نہ کیا تو عدت کے گزرنے کے ساتھ ہی دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا ،پھر دوبارہ ازدواجی حیثیت سے ساتھ رہنے کے لئے باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ نیا عقد نکاح کرنا لازم ہوگا۔تجدیدِ نکاح یا رجوع کے بعد سائلہ کے شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی رہے گا جب کبھی وہ ایک طلاق بھی دے دی تو سائلہ اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی اور پھر بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقد ِ نکاح بھی نہیں ہو سکے گا ،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں اسے بہت احتیاط سے کام لینا ہوگا۔
كما في الهداية : " الطلاق على ضربين : صريح و كناية . فالصريح قوله أنت طالق و مطلقة و طلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي " (باب إيقاع الطلاق، ج 2، ص 61 ، ط : مكتبة إنعامية)-
و فی الدر المختار: (الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح... (لا) يلحق البائن (البائن)الخ (كتاب الطلاق، باب الكنايات ج:3 ص:306 ط:سعید)۔
وفی الموسوعة الفقهية الکویتیة: كما اتفقوا على أن الزوج إذا طلق زوجته رجعيا واحدة أو اثنتين، فإن له العود إليها بالمراجعة بدون عقد ما دامت في العدة لقوله تعالى: {وبعولتهن أحق بردهن في ذلك إن أرادوا إصلاحا}الخ(باب الرجعة في الطلاق ج:29 ص:53 ط: دار الصفوة)۔
و في الفتاوى الهندية : (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. ( الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه، ج 2، ص 191، ط : رشيدية)-
و فیہا ایضاً: و هو كأنت طالق و مطلقة و طلقتك و تقع واحدة رجعية و إن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئًا، كذا في الكنز الخ (كتاب الطلاق ج:1 ص:354 ط: مکتبہ رشيديۃ)۔
وفی الدر المختار: (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس الخ(باب الرجعۃ ج3 ص: 397 ط: سعید ۔ کراتشی)۔