میں نے اپنی بیوی کو دو سال پہلے ایک بار طلاق دی ،پھر ایک سال پہلے ایک بار طلاق دی اور ابھی ایک ہفتہ پہلے ایک بار طلاق دی تو اس کا کیا حکم ہے ؟کیا میں رجوع کیسے کر سکتا ہوں؟
سائل نے یہ ذکر نہیں کیا کہ اس نے الفاظِ طلاق کیا استعمال کیے تھے۔ تاہم صریح الفاظِ طلاق سے اگر طلاق دی ہو اور پہلی دو طلاقوں میں سے ہر طلاق کے بعد بیوی سے رجوع بھی کر لیا ہو اور دونوں میاں بیوی کی طرح رہتے آ رہے ہوں، تو اب ہفتہ قبل دی گئی تیسری طلاق پہلی دو طلاقوں کے ساتھ مل کر مجموعی طور پر اس کی بیوی پر تین طلاق واقع ہو کر سائل اور اس کی بیوی کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے۔ چنانچہ اب نہ تو رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح ہو سکتا ہے۔ دونوں پر لازم ہے کہ فوری طور پر ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ورنہ دونوں سخت گناہگار ہوں گے، جبکہ عدت گزارنے کے بعد سائل کی بیوی کسی دوسرے شخص سے عقدِ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تبارک و تعالی: الطَّلاقُ مَرَّتانِ فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ وَلا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً إِلَاّ أَنْ يَخافا أَلَاّ يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَاّ يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ فَلا جُناحَ عَلَيْهِما فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَعْتَدُوها وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229) فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيما حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُها لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (230)«[سورة البقرة (2) : الآيات 229 الى 230]۔
و فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية ... سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ (کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن، ج3 ص38 ط: دار الکتب العلمیة)۔
و فی الدر المختار: (الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح... (لا) يلحق البائن (البائن)الخ (كتاب الطلاق، باب الكنايات ج:3 ص:306 ط:سعید)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ:وإن کان الطلاق ثلاثًا في الحرۃ، و ثنتین في الأمة، لم تحلّ له، حتی تنکح زوجًا غیرہ نکاحًا صحیحًا،ویدخل بها، ثم یطلقها أو یموت عنها الخ(کتاب الطلاق،الباب السادس، فصل فیما تحل به المطلقة ج:1 ص:473 ط: مکتبة رشیدیة)۔