What are rulings for one divorve confirmatio (ترجمہ)ایک طلاق کے وقوع کے بارے میں شرعی احکام کیا ہیں؟
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اسے طلاق کے سلسلے میں کیا مسئلہ درپیش ہے تاکہ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے جواب دیا جاتا۔ تاہم مختصراً جاننا چاہئیے کہ جب شوہر اپنی بیوی کو صریح الفاظ کے ساتھ( جیسے” میں تجھے طلاق دیتا ہوں“ ایک بار بول کر) ایک طلاق دیدے تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو جاتی ہے۔ جس کا حکم یہ ہے کہ اس سے نکاح فوری طور پر بالکلیہ ختم نہیں ہوتا بلکہ دورانِ عدت( اگر بیوی کو حیض /ماہواری آتی ہو تو اس کی عدت تین ماہواریوں تک کا زمانہ اور اگر حمل سے ہو تو طلاق کے بعد سے بچہ/بچی کی پیدائش تک کا زمانہ عدت کہلاتا ہے) بلا تجدیدِ نکاح شوہر کو زبان سے یا عمل سے رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے اور رجوع کرنے میں بیوی کی رضامندی بھی ضروری نہیں۔
چنانچہ زبانی رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر بیوی سے کہہ دے کہ میں رجوع کرکے تجھے بیوی بنائے رکھتا ہوں، جبکہ عملی رجوع یہ ہے کہ شوہر بیوی سے ازدواجی تعلقات (ہمبستری یا بوس و کنار )قائم کرلے، بہر دو صورت رجوع کے بعد میاں بیوی کا نکاح برقرار رہتا ہے، لیکن اگر دوران عدت شوہر نے رجوع نہیں کیا اور عدت گزر گئی تو اس صورت میں طلاقِ رجعی ،طلاق بائن سے بدل کر نکاح ختم ہوجائے گا، جس کے بعد بیوی کی مرضی سے تجدید نکاح کے بغیر دوبارہ ازدواجی حیثیت بھی قائم نہیں ہوگی۔
الغرض ایک طلاق واقع ہونے کے بعد آئندہ شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا۔ تاہم سوال کی نوعیت اگر مختلف ہو تو اس کی مکمل وضاحت کرکے ای میل کردیں۔ انشاءاللہ حکم شرعی سے بھی آگاہ کردیا جائے گا۔
كما في الهداية : " الطلاق على ضربين : صريح و كناية . فالصريح قوله أنت طالق و مطلقة و طلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي " (باب إيقاع الطلاق، ج 2، ص 61 ، ط : مكتبة إنعامية)-
و في الفتاوى الهندية : (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. ( الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه، ج 2، ص 191، ط : رشيدية)-
و فییا ایضاً: و هو كأنت طالق و مطلقة و طلقتك و تقع واحدة رجعية و إن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئًا، كذا في الكنز الخ (كتاب الطلاق ج:1 ص:354 ط: مکتبہ رشيديۃ)۔
وفی الدر المختار: (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس الخ(باب الرجعۃ ج3 ص: 397 ط: سعید ۔ کراتشی)۔