السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
امید کرتا ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں ایک اہم مسئلے میں رہنمائی کا طلبگار ہوں اور اپنی صورتحال کے بارے میں ایک فتویٰ درکار ہے۔
میں تقریباً آٹھ سال سے آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہوں، اور اب میرے لیے شہریت کے لیے درخواست دینے کا وقت ہے۔ میری شادی ستمبر 2025 میں ہوئی۔ شادی کے بعد میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ وہ آسٹریلین مستقل رہائش کے لیے ضروری میڈیکل ٹیسٹ کروائیں، کیونکہ امیگریشن کے قانون کے مطابق اگر اہلیہ میڈیکل پاس نہ کریں تو ہماری دونوں کی درخواست متاثر ہوسکتی ہے۔
بدقسمتی سے ان کی میڈیکل رپورٹس ٹھیک نہیں آئیں، اور ظاہر ہے کہ وہ میڈیکل کلیئرنس حاصل نہیں کر پائیں گی۔ میں اس صورتحال میں بہت پریشان ہوں کیونکہ میری شہریت میرے اہلِ خانہ کی مالی مدد کے لیے انتہائی اہم ہے۔
میری نکاح کی رجسٹریشن NADRA میں ہو چکی ہے اور اسے ختم کرنا ممکن نہیں۔ امیگریشن کے کاغذی معاملات میں صرف یہی ایک راستہ نظر آتا ہے کہ کاغذی طور پر طلاق ظاہر کی جائے، حالانکہ میری بالکل بھی نیت طلاق دینے کی نہیں ہے، اور نہ ہی میری اہلیہ کی ایسی کوئی نیت ہے۔ یہ صرف کاغذی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہوگا، حقیقی طلاق کے ارادے کے بغیر۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
کیا محض قانونی یا امیگریشن ضرورت کی بنا پر، بغیر نیت کے، کاغذ پر طلاق لکھوانا شرعاً درست ہے؟ کیا شریعت میں ایسی طلاق واقع ہو جاتی ہے جب دونوں فریقوں کی کوئی نیت طلاق کی نہ ہو؟
براہِ مہربانی مجھے اسلامی نقطۂ نظر سے صحیح رہنمائی عطا فرمائیں کہ اس مسئلے میں مجھے کیا کرنا چاہیے۔
جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ اپنی مرضی سے طلاق نامہ بنوا کر اس پر دستخط کرنے سے اس میں درج طلاقیں شرعا واقع ہو جاتی ہیں ، تاہم اگر کسی ایسی قانونی مجبوری کی وجہ سے جس سے طلاق کے کاغذات بنائے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو تو محض کارروائی کی حد تک طلاق نامہ بنوانے کی بعض شرائط کے ساتھ گنجائش ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ سائل طلاق نامہ بنوانے سے پہلے اس بات پر گواہ بنائے کہ مذکور طلاق نامہ فقط کاغذی کاروائی کیلئےہے تاکہ قانونی کارروائی پوری ہو سکے،اس سے بیوی کو طلاق دینا ہرگز مقصود نہیں اور زبان سے بھی طلاق کے الفاظ ادا نہ کیے جائیں تو اس صورت میں اس طلاق نامہ پر محض دستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی،تاہم ایک غیر مسلم ملک کی شہریت کے حصول کے لئے اس قسم کی غلط بیانی اور جعلی دستاویزات بنوانا ایک مسلمان کی شایان شان نہیں، بلکہ اس سے بچنا چاہئے ۔
کما فی الشامیہ: لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا.(كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ج:3، ص:238، ط:سعيد)
و فیھا ایضا: قال: أنت طالق أو أنت حر وعنى الإخبار كذبا وقع قضاء، إلا إذا أشهد على ذلك، وكذا المظلوم إذا أشهد، عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا صدق قضاء وديانة.(کتاب الطلاق،مطلب الطلاق یقع بعدد قرن بہ لا بہ،ج:3،ص:390،ط:سعید)