السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب،
مجھے ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے جو طلاق سے متعلق ہے، براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔
میری شادی کو تقریباً بارہ سال ہو چکے ہیں۔ ان بارہ سالوں میں پہلے ہی سال میں، غصے کی حالت میں، میں نے اپنی بیوی کو ایک مرتبہ یہ الفاظ کہے تھے کہ "میں نے تمہیں طلاق دی"۔
اس کے بعد تقریباً آٹھ سے دس سال گزرنے کے بعد ایک موقع پر ہمارا جھگڑا ہوا، تو میری بیوی گھر چھوڑ کر جانے لگی۔ اس وقت میں نے اس سے کہا کہ "اگر تم نے یہ دہلیز کراس کی تو میرا تمہارا رشتہ ختم"۔ بعد میں میں نے ایک مفتی صاحب سے اس بارے میں فتویٰ لیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے دوسری طلاق (طلاقِ بائن) واقع ہو گئی ہے۔ چنانچہ ہم نے دوبارہ نکاح (تجدید نکاح) کر لیا، اور مجھے بتایا گیا کہ اب دو طلاقیں ہو چکی ہیں اور ایک آخری موقع باقی ہے۔
اب حال ہی میں ایک واقعہ پیش آیا: ہم دونوں خوشگوار ماحول میں تھے، سحری کے بعد آرام کر رہے تھے۔ میری بیوی نے مزاح کے طور پر میرے سینے پر ہاتھ رکھا، تو میں نے اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا کہ "آپ میرے لیے حرام ہیں"۔ یہ الفاظ میرے منہ سے اچانک نکل گئے، اور اس وقت میری ہرگز طلاق کی نیت نہیں تھی، نہ ہی میں طلاق کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
جیسے ہی میں نے یہ الفاظ کہے، مجھے فوراً شک ہوا، تو میں نے فوراً وضاحت کی کہ میرا مقصد یہ تھا جیسے روزے کی حالت میں حلال چیزیں بھی وقتی طور پر حرام ہو جاتی ہیں، اسی طرح میں بات سمجھانا چاہ رہا تھا، نہ کہ طلاق دینا۔
اب مجھے شدید خدشہ اور پریشانی ہے کہ کہیں اس جملے کی وجہ سے تیسری طلاق واقع نہ ہو گئی ہو۔
براہِ کرم اس مسئلے میں میری مکمل رہنمائی فرمائیں کہ:
1. کیا میرے اس جملے سے تیسری طلاق واقع ہو گئی ہے؟
2. اگر نہیں، تو آئندہ کے لیے مجھے کن باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے؟
جزاکم اللہ خیراً
والسلام
صورت مسئولہ میں حرام کے لفظ سے اگر واقعۃً سائل کی مذکور نیت ہو طلاق کی نیت نہ ہو تو ایسی صورت میں اس جملہ سے سائل کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا سائل اور اس کی بیوی بدستور میاں بیوی ہیں، تاہم آئندہ اس قسم کے الفاظ بولنے سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الرد: وإن كان الحرام في الأصل كناية يقع بها البائن لأنه لما غلب استعماله في الطلاق لم يبق كناية، ولذا لم يتوقف على النية أو دلالة الحال، ولا شيء من الكناية يقع به الطلاق بلا نية أو دلالة الحال كما صرح به في البدائع، ويدل على ذلك ما ذكره البزازي عقب قوله في الجواب المار إن المتعارف به إيقاع البائن لا الرجعي، حيث قال ما نصه: بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ(کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج:3، ص:300، ط: سعید)