طلاق کے بارے میں رہنمائی درکار ہے
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
میرا ایک گھریلو مسئلہ ہے، براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
میری شادی کو کچھ سال ہو چکے ہیں اور ہمارا ایک 3 سال کا بچہ بھی ہے۔
میرے شوہر کی طرف سے پہلے دو طلاقیں واضح طور پر ہو چکی ہیں (الفاظ کے ساتھ)۔
حال ہی میں فون پر بات کے دوران میرے شوہر نے غصے میں طلاق جیسے الفاظ کہنا شروع کیے۔
کال بند کرنے کے بعد مجھے لگا کہ شاید انہوں نے کہا تھا: “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" لیکن میں نے 100% یقین سے مکمل جملہ نہیں سنا، اس لیے میں نے بات مکمل ہونے سے پہلے کال کاٹ دی کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ وہ مکمل الفاظ نہ کہہ دے۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد میرے شوہر نے خود رابطہ کیا اور واضح طور پر کہا کہ: “میں نے تمہیں طلاق نہیں دی، تم نے غلط سنا ہے”اب میں شدید کنفیوژن میں ہوں:
- کیا اس صورت میں تیسری طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
- کیا صرف شک یا ادھوری سنی ہوئی بات پر طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
- میری موجودہ شرعی حیثیت کیا ہے (کیا میں اب بھی نکاح میں ہوں)؟
- اس صورتحال میں مجھے آئندہ کیا کرنا چاہیے؟
براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں تاکہ میں اللہ کے سامنے صحیح جواب دے سکوں۔
جزاکم اللہ خیرا
سائلہ نے اس بات کی تصریح نہیں کی کہ اس کے شوہر نے اسے پہلی دو طلاقیں کن الفاظ سے دی تھی ، اور اس کے بعد رجوع ہوا تھا یا نہیں، تاہم اگر سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو صریح الفاظ جیسے" میں تمہیں طلاق دیتاہوں" سے دو طلاقیں دی ہو ں اور اس کے بعد رجوع بھی کیا ہو تو سائلہ اور اس کے شوہر کا نکاح برقرار رہا،جبکہ تیسری طلاق کے الفاظ میں چونکہ سائل کو شک ہے اور شوہر بھی مذکور الفاظ کے کہنے کا انکارکررہاہے تو ایسی صورت میں شرعاً یہ طلاق واقع نہ ہوگی ،لہذا سائلہ اور اس کا شوہر بدستور میاں بیوی ہیں، نیز سائلہ کے شوہر کے پاس آئندہ فقط ایک طلاق کا اختیار باقی ہے، اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الاشباہ والنظائر: ومنها:شك هل طلق أم لا لم يقع.شك أنه؛ طلق واحدة، أو أكثر، بنى على الأقل كما ذكره الإسبيجابي إلا أن يستيقن بالأكثر، أو يكون أكبر ظنه على خلافه( الفن الاول،قاعدۃ من شک ھل فعل شیئا ام لا،ص:52،ط:دارالکتب العلمیہ)