۱۔ امام کو ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورت کیسے پڑھے اور اس کے پیچھے مقتدی کا کیا حکم ہے؟ یعنی مقتدی سورت پڑھے یا نہیں؟
۲۔ یہاں ’’دوحہ‘‘ میں مجبوراً ایک جماعت کے بعد دوسری، تیسری اور چوتھی جماعتیں ہوتی ہیں اور سب احناف اُن کے پیچھے دوسری جماعت پڑھتے ہیں، میں نے داڑھی رکھی ہے اس وجہ سے ’’عرب‘‘ مجھ کو دوسری جماعت میں دیکھ لیتے ہیں تو امام بناتے ہیں، کیا میں دوسری جماعت پڑھاؤں یا نہیں؟ وہ چاہے پڑھیں میں الگ جا کر اپنی نماز ادا کروں؟
۱۔ ظہر، عصر اور عشاء کی تیسری اور چوتھی اور مغرب کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورۃ کی قرأت امام پر واجب نہیں البتہ فقط سورت فاتحہ پڑھنا مسنون ہے، جبکہ مقتدی پر پہلی دو رکعات کی طرح ان رکعتوں میں بھی امام کے پیچھے خاموش کھڑا رہنا لازم ہے۔
۲۔ اگر مذکور مسجد شاہراہ پر بنی ہو اور اس کا مستقل امام نہ ہو، بلکہ لوگ آکر اپنی جماعتیں کراتے اور تنہا نمازیں پڑھتے ہوں تو اس صورت میں دوسری اور تیسری جماعت احناف کے نزدیک بھی بلاکراہت جائز ہے۔
ففی الدر المختار: (وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار (إلی قوله) (في الأوليين من الفرض) وهل يكره في الأخريين؟ المختار لا اھ (1/ 458)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله المختار لا) أي لا يكره تحريما بل تنزيها لأنه خلاف السنة(1/ 459)
وفی الدر المختار: (واكتفى) المفترض (فيما بعد الأوليين بالفاتحة) فإنها سنة على الظاهر اھ(1/ 511)
وفیه أیضاً: (والمؤتم لا يقرأ مطلقا) ولا الفاتحة في السرية اتفاقا، وما نسب لمحمد ضعيف كما بسطه الكمال (فإن قرأ كره تحريما)(إلی قوله) (بل يستمع) إذا جهر (وينصت) إذا أسر اھ(1/ 544)
ففی الدر المختار: ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن اھ(1/ 552)