السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ: میرے شوہر کا ایک بہترین دوست ہے میرے شوہر مجھے اکثر مذاق میں کہتے ہیں تم اس کی بیوی ہوں اور میں تمہارا بیٹا ہوں۔ اس دوست کا نام لے کر بھی کبھی کہتے ہیں تم اس کی بیوی ہو، کیا اسے میرا نکاح پر کوئی اثر تو نہیں ہوگا ؟
سائلہ کے شوہرکے سوال میں درج مذکور کلمات اگر چہ سائلہ اور شوہر کے نکاح کو متأ ثرنہیں کرتے ،تاہم یہ کلمات انتہائی نازیبا اور فحش گوئی پر مشتمل ہیں ، اس لئے سائلہ کے شوہر پر لازم ہے کہ آئندہ اس قسم کے کلمات سے احتراز کرے۔
وفی المبسوط للسرخسی: «وإن قال لامرأته لست لي بامرأة ينوي الطلاق فهو كما وصفت لك في الخلية والبرية في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى لا تطلق وهذا ليس بشيء» الخ ( باب ماتقع بہ الفرقۃ ، ج: 6 ص: 81 ناشر : بیروت )
وفی فتح القدیر : «ولو قال أنت علي مثل أمي أو كأمي يرجع إلى نيته) لينكشف حكمه (فإن قال أردت الكرامة فهو كما قال) لأن التكريم بالتشبيه فاش في الكلام (وإن قال أردت الظهار فهو ظهار) لأنه تشبيه بجميعها، وفيه تشبيه بالعضو لكنه ليس بصريح فيفتقر إلى النية (وإن قال أردت الطلاق فهو طلاق بائن) لأنه تشبيه بالأم في الحرمة فكأنه قال أنت علي حرام ونوى الطلاق، وإن لم تكن له نية فليس بشيء عند أبي حنيفة وأبي يوسف لاحتمال الحمل على الكرامة»الخ ( باب الظہار ،ج؛4 ص: 252 ناشر: شرکۃ مکتبۃ )