السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکا تہ
. محترم جناب مفتی صاحب .
: ایک بندہ عاقل بالغ بھی ہے اور اپنے پورے ہوش وہواس میں اس نے قسم کھائی ہےکہ اگر میرا نکاح فلاں بنت فلاں کے ساتھ نہیں ہوا تو رب کعبہ کی قسم جب تک وہ زندہ ہیں تو میں نے کسی اور کے ساتھ نکاح کیا تو اس کو تین طلاق اور قسم کا کوئی کفارہ نہیں :
تو مفتی صاحب آپ بتائیں قسم ہوگیا یا اس کا کوئی حل ہیں ابھی
جزاک اللہ خیر
صورتِ مسئولہ مذکورہ شخص فلانہ بنت فلان کی زندگی میں اس کے علاوہ جب کبھی بھی خود کسی عورت سے شادی کرے گا تو اس کی منکوحہ پر فوراً طلاق واقع ہو جائے گی ،البتہ اس کے نکاح کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ کوئی شخص اس شخص کے کہے اور حکم دیے بغیر بطور فضولی کسی عورت سے اس کا نکاح کرا دے اور وہ زبان سے قبول نہ کرے، بلکہ اپنے عمل (مثلاً بیوی کے پاس چلے جائے یا حق مہر کی ادائیگی کردے) تو اس کی طرف سے یہ قبول اور رضامندی کا اظہار شمار ہو گا ،چنانچہ ایسی صورت میں اس کی منکوحہ پر طلاق بھی واقع نہ ہو گی اور یہ نکاح درست منعقدہو جائے گا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين:(قوله: إلا المضافة إلى الملك) أي في نحو: كلما تزوجت امرأةً فهي طالق ثلاثاً، فطلق امرأته ثلاثاً، ثم تزوجها، فإنها تطلق؛ لأن ما نجزه غير ما علقه، فإن المعلق طلاق ملك حادث فلايبطله تنجيز طلاق ملك قبله". الخ (باب التعلیق ،ج: 3 ص؛ 345 ناشر : سعید)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين :"(قوله: وكذا كل امرأة) أي إذا قال: كل امرأة أتزوجها طالق، والحيلة فيه ما في البحر من أنه يزوجه فضولي، ويجيز بالفعل كسوق الواجب إليها، أو يتزوجها بعد ما وقع الطلاق عليها؛ لأن كلمة كل لاتقتضي التكرار. اهـ. وقدمنا قبل فصل المشيئة ما يتعلق بهذا البحث".". الخ (باب التعلیق ،ج: 3 ص؛ 345 ناشر : سعید)
وفی فتح القدیر : «وهذا عندنا فإن كل عقد صدر من الفضولي وله مجيز انعقد موقوفا على الإجازة»الخ( فصل فی الوکالۃ بالنکاح وغیرہا ،ج: 3 ص:307 ناشر: شرکۃ مکتبۃ)
وفیہ ایضاً: «وإذا قال: كل امرأة أتزوجها طالق فزوجه فضولي فأجاز بالفعل بأن ساق المهر ونحوه لا تطلق، بخلاف ما إذا وكل به لانتقال العبارة إليه»الخ (باب الایمان فی الطلاق ،ج:4 ص: 119 ناشر: شرکۃ مکتبۃ)