تعذیر و جرمانہ

ایکسیڈنٹ کے بعد اسپتال میں مرنے والے کی دیت اور کفارہ کا حکم

فتوی نمبر :
93807
| تاریخ :
2026-04-05
عقوبات / حدود و سزا / تعذیر و جرمانہ

ایکسیڈنٹ کے بعد اسپتال میں مرنے والے کی دیت اور کفارہ کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسلہ کے بارے میں کہ
زید اپنے رفقاء کے ہمراہ چار کاروں کے ایک قافلہ میں اپنی کار چلا رہا تھا ۔ اور باقی ساتھیوں سے پیچھے ہونا کم رفتار ہی کی وجہ سے تھا اور ایک ٹرک کے پیچھے اپنی لین میں ہائی وے پر گاڑی چلا رہا تھا کہ اچانک آگے چلنے والےٹرک نے لین تبدیل کی اور دائیں طرف ہوگیا، تو رات کے اندھیرے میں بیچ سڑک پر کار کی لین میں ایک موٹر سائیکل رکشہ کھڑا تھا، جسکی کوئی لائٹ بھی نہ تھی اور بالکل ساتھ ہی عین روڈ پر چند خواتین اندھیرے میں رکشے سے اتر کر کھڑی تھیں ۔
جیسے ہی گاڑی کی لائٹ میں وہ نظر آئیں تو زید ڈرائیور نے فوراً بریک لگائی، گاڑی کی بریک بھی بالکل ٹھیک تھی لیکن رکشہ اور خواتین انتہائی قریب ہونے کی وجہ سے زد میں آگئیں اور گاڑی کی ٹکر سے دو سے چار گز دور جا گریں ۔
ڈرائیو نے فوراً ایمبولینس کو بلوا کر زخمیوں کو اسپتال منتقل کروا دیا ۔
اب صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی زخمی عورت بعد میں ہسپتال میں فوت ہو جائے تو ڈرائیور پر دیت یا کفارہ لازم آئے گا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور واقعے کی مکمل تفصیل واضح نہیں، نیز متاثرہ فریق کا موقف بھی سامنے نہیں آیا؛ اس لیے دیت اور کفارے کےلازم ہونے یا نہ ہونے کے متعلق قطعی حکم نہیں لگایا جا سکتا البتہ اگر واقعہ حقیقتاً اسی نوعیت کا ہو جیسا کہ سوال سے ظاہر ہورہا ہے، یعنی ڈرائیور ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے ہوئے گاڑی چلا رہا ہو، گاڑی بھی فنی اعتبار سے درست اورصحیح سالم ہو، اور چند خواتین بیچ سڑک اس طرح گاڑی کے سامنے آئی ہوں کہ ڈرائیور کے لیے تمام ممکنہ احتیا ط اور کوشش کے باوجود گاڑی روک کر انہیں بچانا ممکن نہ رہا ہو، تو ایسی صورت میں گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہونے والی خواتین کا اگر انتقال ہوتا ہے تو ڈرائیور پر نہ دیت لازم ہوگی اور نہ ہی کفارہ۔
البتہ اگر واقعے کی حقیقی نوعیت اس سے مختلف ہو، یا اس میں ڈرائیور کی طرف سے کسی قسم کی کوتاہی، غفلت یا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پائی جا رہی ہو، تو حکم مختلف ہوگالہٰذا ایسے معاملے میں تمام متعلقہ حقائق اور تفصیلات معلوم ہونے کے بعد ہی حتمی شرعی حکم بیان کیا جاسکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی البحوث فی القضایا الفقیہ المعاصرۃ:
«والذي يظهر لي في هذه الصورة - والله سبحانه أعلم - أن الرجل الذي قفز أمام السيارة إن قفز بقرب منها بحيث لا يمكن للسيارة في سيرها المعتاد في مثل ذلك المكان أن تتوقف بالفرملة، وكان قفزه فجأة لا يتوقع مسبقا لدى سائق متبصر محتاط، فإن هلاكه أو ضرره في مثل هذه الصورة لا ينسب إلى سائق السيارة، ولا يقال: إنه باشر الإتلاف، فلا يضمن السائق، ويصير القافز مسببا لهلاك نفسه، وذلك لوجوه: أولا: لو قلنا بضمان السائق في هذه الصورة، لزم منه أنه لو عزم رجل على قتل نفسه، فقفز أمام سيارة أو قطار بقصد إهلاك نفسه، فإن السائق يضمنه، وهذا مخالف للبداهة. ثانيا: قد قررنا في القاعدة الثانية أنه يجب لتضمين المباشر أن تتحقق منه مباشرة الإتلاف بدون شك. وحيث كان تأثير المسبب أقوى من تأثير المباشر، أو انعدم اختيار المباشر بفعل رجل آخر، كما في مسألة نخس الدابة، فإنه لا يعد مباشرا للإتلاف، فلا يجب عليه الضمان.
ثالثا: إذا كان المباشر ملجأ من قبل الآخر، كما في صورة الإكراه، فإنه لا يعد مباشرا حقيقيا للقتل والإتلاف، وإنما ينسب الإتلاف إلى من أكرهه على ذلك، فصار كما إذا أكره رجل آخر على قتل نفسه، فقتله المكره في حالة الإكراه الملجئ، فلا ضمان على القاتل المكره، لأنه لا ينسب مباشرة القتل إلى المكره (بالفتح) بل لا تنسب مباشرة الإتلاف إلى السائق في مسألتنا بالطريق الأولى؛ لأن الإكراه لا يعدم القدرة على التحرز من الفعل الذي وقع الإكراه عليه، فيمكن للمكره أن يتحرز عن القتل على قيمة نفسه، ولذلك يستحق التعزير على قتله. بخلاف السائق في صورتنا، فإنه لم يبق له اختيار ولا قدرة على صيانة القافز من صدم السيارة.»«رابعا: قدمنا عن صاحب الهداية أنه لو كان المسبب متعديا والمباشر غير متعد، فالمسبب أولى بالضمان من المباشر، ولا شك في تعدي القافز في مسألتنا، وعدم تعدي السائق، فليكن القافز هو المسئول عن فعل نفسه. خامسا: لا أقل من أنه قد وقع الشك في كون السائق مباشرا للإتلاف وفي كونه ضامنا، ومن أكبر الشواهد على ذلك أن اللجنة الدائمة للبحوث والإفتاء السابق ذكرها قد ترددت في ضمان السائق، وفي صورة الشك لا يجب الضمان، قال البغدادي في مجمع الضمانات: (رجل حفر بئرا في الطريق، فسقط فيها إنسان ومات، فقال الحافر: إنه ألقى نفسه فيها، وكذبته الورثة في ذلك، كان القول قول الحافر في قول أبي يوسف الآخر، وهو قول محمد؛ لأن الظاهر أن البصير يرى موضع قدمه، وإن كان الظاهر أن الإنسان لا يوقع نفسه، وإذا وقع الشك، لا يجب الضمان بالشك)(ص:317،ط:دارالقلم ،دمشق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ علیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93807کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • خود اپنے نفس پر کسی گناہ کی سزا متعین کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   تعذیر و جرمانہ 0
  • حکومت کے ظالمانہ ٹیکس کی ادائیگی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   تعذیر و جرمانہ 0
  • قسط کی عدم ادائیگی پر جرمانہ عائد کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   تعذیر و جرمانہ 0
  • چوری کے پیسے واپس کرنے میں پکڑے جانے کا ڈر ہو تو کیا کریں؟

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
  • مقتول کے اولیاء میں سے کچھ ورثاء و اولیاء قصاص معاف کردیں تو دیگر اولیاء کے لئے دیت اور اس کی تقسیم کا حکم و طریقہ کار

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 1
  • پرندہ زورسے پکڑنےپر مرنے سے کوئی کفارہ دینا ہوگا؟

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 1
  • چوری شدہ مال اور اس سے حاصل شدہ منافع دونوں واپس کرنا لازم ہے

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
  • دس سالہ لڑکے کا بکری سے بدفعلی کرنا اور بکری سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
  • ملازم کی چوری کی وجہ سے اسکی تنخواہ اور فنڈ ضبط کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
  • دیت لینے سے مقتول کو انصاف ملے گا یا نہیں؟

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 1
  • صلح میں لڑکی کا نکاح کرانے کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   تعذیر و جرمانہ 0
  • ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر بچے کو دوائی دینے سے اس کی موت کی صورت میں اس کی ماں پر کیا کفارہ آئے گا ؟

    یونیکوڈ   انگلش   تعذیر و جرمانہ 0
  • ایکسیڈنٹ کے بعد اسپتال میں مرنے والے کی دیت اور کفارہ کا حکم

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
  • خودکشی کرنے والا شخص اگر بچ جائے تو اس کی کوئی سزا ہے؟

    یونیکوڈ   تعذیر و جرمانہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات