کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمی ۔۔۔اور بیوی مسماۃ۔۔۔ کی شادی کو عرصہ چار سال ہو چکاہے ،بے روزگاری اور کم آمدن کی وجہ سے گھر میں لڑائی جھگڑا رہنے لگا تھا اور اسی وجہ سے سسرال والے ایک دو بار بیوی کو لے کر چلے گئے تھے ،انہی معاملات میں تین مہینہ قبل میں نے اپنی بیوی کو یہ جملہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "تین بار کہہ دیا ،اب اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور ہم دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کا کیا طریقہ کار ہے؟رہنمائی فرمائیں۔
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق سائل کے مذکور جملہ "میں تمہیں طلاق دیتاہوں " تین بار کہنے سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقد نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر شوہر کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ وہ زوج اول کے لئے دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہ تحریمی ہے اور اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما قال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الی قولہ) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ۔الآیۃ(البقرۃ آیت : 229،230)
و فی رد المحتار: (قوله أو لم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر اھ(باب الصریح،ج:3،ص:250،ط:سعید)
وفی الفتاوی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز،أما الإنزال فليس بشرط للإحلال۔اھ(کتاب الطلاق،ج:1،ص:473،ط:ماجدیۃ)۔