رضاعت

کیا بچہ کو دو سال سے پہلے دودھ چھڑواسکتے ہیں؟

فتوی نمبر :
93831
| تاریخ :
2026-04-06
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / رضاعت

کیا بچہ کو دو سال سے پہلے دودھ چھڑواسکتے ہیں؟

کیا بچے کو دو سال سے پہلے دودھ چھڑوا سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

وا ضح ہوکہ بچے کو دودھ پلا نے کی مدت قرآن و سنت میں دو سال بیان کی گئی ہے اس لئےدو سال تک بچے کو دودھ پلانا بلا شبہ جائز اور درست ہے تا ہم اگر بچے کے والدین کسی عذر کی وجہ سے دوسال پورا ہو نے سے پہلے بچے کا دودھ چھڑ وانا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے بشرطیکہ اس کی وجہ سے بچے کی صحت متاثر نہ ہو ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في قوله تعالي: والوالدات يرضعن أولادهن حولين كاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة الخ ( سورة البقرة الآية ٢٣٣)۔
وفي روح المعاني تحت هذه الآية:واستدل بالآية على أن أقصى مدة الإرضاع حولان ولا يعتد به بعدهما فلا يعطى حكمه وأنه يجوز أن ينقص عنهماالخ (ج:١، ص١٤٦،ط:مكتبه امداديه )-
وفي الجامع لاحكام القرآن تحت هذه الآية: وذلك أن الله سبحانه لما جعل مدة الرضاع حولين بين أن فطامهما هو الفطام، و فصالهما هو الفصال ليس لأحد عنه منزع، إلا أن يتفق الأبوان على أقل من ذلك العدد من غير مضارة بالولد، فذلك جائز بهذا البيان الخ(ج:٢،ص:١١٧،ط:دارالاحياء)۔
وفي ردالمحتار: تحت (قوله والأصح أن العبرة لقوة الدليل) قال في البحر: ولا يخفى قوة دليلهما، فإن قوله تعالى (والوالدات يرضعن )الآية يدل على أنه لا رضاع بعد التمام واما قوله تعالي (فإن أرادا فصالا عن تراض منهما وتشاور فلا جناح عليهما)فإنما هو قبل الحولين بدليل تقييده بالتراضي، والتشاور وبعدها لا يحتاج إليهماالخ(كتاب النكاح ج:٤،ص:٣٨٩،مكتبه رشيديه)۔
وفي البحرالرائق: والأصح أن العبرة لقوة الدليل ولا يخفى قوة دليلهما وأن قوله تعالى( والوالدات يرضعن أولادهن حولين كاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة)يدل على أنه لا رضاع بعد التمام وأما قوله تعالى: (فإن أرادا فصالا عن تراض منهما وتشاور فلا جناح عليهما)فإنما هو قبل الحولين بدليل تقييده بالتراضي والتشاور وبعدها لا يحتاج إليهماالخ(كتاب الرضاع ج:٣،ص:٢٢٣،ط:رشيديه)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
احمد محمود سیمات عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 93831کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • رضاعی بھانجی سے نکاح کرنا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • عورت نے شیرخوار بچے کے منہ میں پستان دیا پھر اس کا کہنا کہ بچے نے دودھ نہیں پیا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • بچی کا بڑی عمر کی عورت کی چھاتی منہ میں لینے سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   رضاعت 0
  • مدت رضاعت کے بعد دودھ پینے سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • رضاعی بھائی سے کروائے گئے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • رضاعی بیٹے کی بہن سے اپنے بیٹے کا نکاح کرنا

    یونیکوڈ   رضاعت 1
  • رضاعی بہن سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • نیت اور قصد کے بغیر دودھ منہ میں جانے سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • پانچ مرتبہ دودھ پینے سے رضاعت کے ثبوت والی حدیث کا جواب

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • بھانجی کو دودھ پلانے کے بعد اپنے کسی بھی بیٹے سے اس کا نکاح کرانا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • جس لڑکے کے بھائیوں نے کسی عورت کا دودھ پیا ہو اس کی بیٹی سے مذکور لڑکے کا نکاح کرنا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • جس عورت کا دودھ پیا ہو اسکی بیٹی سے شادی کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 1
  • کیا چمچہ وغیرہ کے ذریعے دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے؟

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • رضاعت کے متعلق شک کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • دو عورتوں کی گواہی سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • چودہ سال کی بچی کو دودھ پلانے سے حرمت رضاعت ثابت ہوگی؟

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • شک کی بناء پر حرمت رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • ایک مرتبہ دودھ پینے سے رضاعت کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • کیا ممانی کا دودھ پینے کے بعد اس کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • لے پالک بیٹے کو محرم بنانے کیلئے اپنی بھانجی کا دودھ پلانا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • نکاح کے متعلق مسائل- مدتِ رضاعت کے بعد بچے کو دودھ پلانا

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • لےپالک بچی کو بھتیجی سے دودھ پلواکر محرم بنانے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   رضاعت 0
  • دادی کا دودھ پینے کے بعد پھوپھو کی بیٹی سے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   رضاعت 0
Related Topics متعلقه موضوعات