میں نے حلالہ کی نیت سے نکاح کیا، اب شوہر مجھے طلاق نہیں دے رہا،میں اس کے ساتھ بالکل بھی نہیں رہنا چاہتی اور میں اس سے ایک دفعہ بھی نہیں ملی اور میں اپنے پہلے شوہر کے ساتھ بھی نہیں رہنا چاہتی۔ مجھے دونوں سے دور رہنا ہے،کیا حلالہ کی نیت سے کیا گیا نکاح کی کوئی حیثیت ہے؟
واضح ہو کہ شرعا نکاح کے درست منعقد ہونے کے لئے متعاقدین کا عاقل بالغ ہونا خود ان کا یا ان کے وکیلوں اور گواہوں کا مجلس نکاح میں موجود ہونا اور گواہوں کا ایجاب و قبول کے الفاظ سننا لازم اورشرط ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کا نکاح مذکور تمام شرائط کے مطابق منعقد ہوا تھااور یہ نکاح کفؤ میں بھی ہواہو تو محض دل میں حلالہ کی نیت ہونے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ یہ نکاح شرعا درست منعقد ہو چکا ہے،اس لئےسائلہ کوطلاق یا خلع کے بغیر اس نکاح کے بندھن سے چھٹکارا حاصل نہ ہوگا۔
کمافي الدر المختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول:اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال (وفي مقام آخر)(و) شرط (حضور) شاهدين (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)علی الأصح (باب النکاح،ج:3،ص:14،ط:سعید)
و في الفتاوى الهندية: رجل تزوج امرأة ومن نيته التحليل ولم يشترطا ذلك تحل للأول بهذا ولا يكره وليست النية بشيء ولو شرطا يكره وتحل عند أبي حنيفة وزفر رحمهما الله تعالى كذا في الخلاصة وهو الصحيح اھ(فصل فیما تحل بہ المطلقۃ الخ،ج:1،ص:474،ط:ماجدیۃ) ۔