،السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !میں اپنی ازدواجی صورتحال اور طلاق کے بعد مالی ذمہ داریوں کے بارے میں ،جبکہ میں ایک غیر مسلم ملک (کینیڈا) میں مقیم ہوں ، شرعی رہنمائی کا طالب ہوں، میری شادی اسلامی طریقے کے مطابق ہوئی تھی اور میں کئی سال اپنی اہلیہ کے ساتھ رہا، جولائی 2024کے آس پاس ہمارے درمیان شدید ازدواجی مسائل شروع ہوئے، میں نے متعدد مرتبہ صلح کی کوشش کی ، کبھی خاندان کے ذریعے اور کبھی ثالثی کے ذریعے ،لیکن حالات بہتر نہ ہوسکے، بلکہ اس کے والدین نے دیگر رشتہ داروں کو بھی مزید مداخلت سے روک دیا، جنوری 2025میں، میں نے ان کے والدین سے دوبارہ مدد طلب کی ، مگر مسائل برقرار رہے، بعد ازاں ہم ایک ہی گھر میں الگ الگ کمروں میں رہنے لگے اور ہمارے درمیان ازدواجی تعلق باقی نہ رہا، دسمبر2024سے جولائی 2025تک ہمارے درمیان کوئی جسمانی تعلق بھی نہیں تھا، اس دوران بھی رشتہ داروں اور ایک خاندانی دوست کے ذریعے صلح کی کوشش کی گئی ، اور کچھ عرصے کے لئے بہتری محسوس ہوئی ، مگر بعد میں واضح ہوگیا کہ یہ رشتہ مزید نہیں چل سکتا، جولائی 2025میں ایک سنگین تنازع پیش آیا، جس کے بعد مجھے یقین ہوگیا کہ نکاح کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ، چنانچہ اگست2025 میں باہمی مشاورت اور رضامندی کے ساتھ میں نےاپنی اہلیہ کو تین طلاق دے دی ، طلاق کے بعد بھی کچھ عرصہ ہم ایک ہی گھر میں رہے، جبکہ میں گھر کےتمام اخراجات ، بشول مور گیج ،بلز ، خوراک اور بچے کے اخراجات اداکرتا رہا ،میری اہلیہ نے عدت اس طریقے سے پوری نہیں کی جیسا کہ میری توقع تھی، اور علیحدگی کا عمل کینیڈین قانون کے تحت جاری رہا،ہماراایک بچہ بھی ہے، اور میں جانتا ہوں کہ اسلام میں بچے کے اخراجات کی ذمہ داری والد پر ہوتی ہے ، جس کو میں ادا کرنے کے لئے تیارہوں ،تاہم میری سابقہ اہلیہ عدالت کے ذریعے مجھ سے نان ونفقہ اور میری جمع پونجی واثاثوں میں کم ازکم نصف حصے کا مطالبہ کررہی ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ طلاق کے بعد بھی مجھے ممکنہ طور پر کئی سال تک انہیں باقاعدگی سے رقم اداکرنی پڑے گی، میرے علم کے مطابق ، اسلامی شریعت میں شوہر پر بیوی کا خرچ نکاح کے دوران اور طلاق کی عدت کے عرصے تک واجب ہوتاہے، لیکن عدت کے بعد عام طور پر سابقہ بیوی کے لئے کوئی مالی ذمہ داری نہیں ہوتی،سوائے بچے کے۔
واضح ہوکہ طلاق کے بعد سابقہ بیوی کا شوہر کے مال میں مہر(اگرادانہ کیاہو)، عدت کے نفقہ کے علاوہ شرعاً کوئی حقِ ملکیت نہیں ہوتا؛ لہٰذا صورت مسئولہ میں سائل کے لیے طلاق کے بعد سابقہ بیوی کے مطالبہ پرنصف جائیداد یا مستقل نان و نفقہ دیناشرعاً لازم نہیں۔البتہ اگر سائل ایسے غیر مسلم ملک میں مقیم ہو جہاں کے قوانین کے تحت اضافی مالی ذمہ داریاں عائد کی جاتی ہوں،اور ان سے بچنا ممکن نہ ہو تو قانونی تقاضے کے طور پر ادائیگی کی جاسکتی ہے، مگر شرعاً یہ زائد ادائیگی واجب نہیں ، بلکہ محض قانونی التزام شمار ہوگی ۔
کما فی الھندیۃ: المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان اھ (الفصل الثالث فی نفقۃ المعتدۃ،ج:1، ص:557، ناشر:بیروت)
وفی بدائعاالصنائع:أن المهر ملك المرأة وحقها؛ لأنه بدل بضعها، وبضعها حقها وملكها، والدليل عليه قوله عز وجل: {وآتوا النساء صدقاتهن نحلة} [النساء: 4] أضاف المهر إليها فدل أن المهر حقها وملكها، وقوله عز وجل: {فإن طبن لكم عن شيء منه نفسا فكلوه هنيئا مريئا} [النساء: 4] وقوله تعالى: منه أي: من الصداق؛ لأنه هو المكنى السابق أباح للأزواج التناول من مهور النساء إذا طابت أنفسهن بذلك، ولذا علق سبحانه وتعالى الإباحة بطيب أنفسهن، فدل ذلك كله على أن مهرها ملكها وحقها الخ (کتاب الطلاق،ج: 2، ص:29،ناشر:سعید)