جناب مفتی صاحب، میری شادی کو ڈھائی سال سے زیادہ کا وقت ہو گیا ہے، میری بیوی کا نام کلثوم احسان ہے، وہ میرے گھر والو ں کو پسند نہیں کرتی، مجھے اپنے گھر والوں سے الگ کرنا چاہتی ہے جو میں نہیں چاہتا، میں نے اپنی بیوی کو بہت سمجھایا، پیار سے، سختی سے، یہاں تک کہ بستر بھی الگ کیا لیکن وہ نہیں سمجھ رہی، میری بیوی کے گھر والے الٹا اپنی بیٹی کو سپورٹ کرتے ہیں، میری بیوی کے گھر والوں نے میری سب بہنوں کے سسرال جا کر غلط فہمیاں پھلائیں، اس لئے میں اپنی بیوی سے علیحدگی چاہتا ہوں، کیوں کہ میں بہت تنگ آچکا ہوں، آپ مجھے بیوی سے علیحدگی کا فتوا دیں۔
واضح ہو کہ شوہر کے ذمے بیوی کے نان ونفقہ اور رہائش کا اس طرح انتظام کرنا شرعالازم اور ضرروی ہے کہ وہ کسی کی محتاج نہ رہے ، اس لیے رہائش میں ایسامستقل کمرہ، باورچی خانہ اور بیت الخلاء کا ہونا ضروری ہے، جس میں کسی دوسرے کا اشتراک اور عمل دخل نہ ہو۔لہذ ا صورت مسئولہ میں اگرسائل نے ایسامستقل کمرہ بیوی کو دیا ہو، جس میں وہ اپنی ضرورت کا سامان اور اپنی مرضی سے رہن سہن کر سکتی ہو تو شرعی اعتبار سے سائل پر واجب سکنی(رہائش ) کی ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے،جس کے بعد بیوی کے لئے الگ مکان کا مطالبہ کرنا درست نہیں ۔ البتہ اگر شوہر دوسرے گھر کا انتظام کر سکتا ہو اور وہاں رہائش رکھنے کی صورت میں والدین کی خدمت اور دیکھ بال کرنے میں بھی کوئی مشکل پیش نہ آتی ہو تو بیوی بچوں کو مناسب رہائش دینا بہر حال بہتر ہے تاکہ میاں بیوی کی ازدواجی زندگی متأثر نہ ہو ۔ جبکہ طلاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور شدید ضرورت کے وقت اسے اختیار کرنے کی اجازت اور گنجائش ہے اس لیے سائل پہلے تو خانہ آبادی کی ہر ممکن کوشش کرے لیکن اگر سائل کو حالات کے سدھرنے سے نا امیدی ہو تو ایسی صورت میں صرف ایک طلاق کا حق استعمال کرے ، ایک سے زائد طلاقیں ہرگز نہ دے تاکہ پشیمانی ہونے اور دوبارہ ازدواجی حیثیت قائم کرنے کے ارادے کی صورت میں مشکلات سے حفاظت ہوسکے۔
و فی الدر المختار: بيت منفرد من دار له غلق زاد في الاختيار والعيني ومرافق ومراده لزوم كنيف ومطبخ وينبغي الإفتاء به. اھ(باب نفقات و السکنی، ج: 3، ص:600، ط: دار الفکر)
و فی رد المحتار: قوله ( وفي البحر عن الخانية ) عبارة الخانية فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لهاأن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها ا ه ۔قال المصنف في شرحه فهم شيخنا أن قوله ثمة إشارة للدار لا البيت لكن في البزازية أبت أن تسكن مع أحماء الزوج وفي الدار بيوت إن فرغ لها بيتا له غلق على حدة وليس فيه أحد منهم لا تمكن من مطالبته ببيت آخر۔اھ( باب النفقات والسکنی۔ج:۳،ص:٦٠٠،ط:دارالفکر)
و فی بدائع الصنائع: ولو أراد الزوج أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأم الزوج وأخته وبنته من غيرها وأقاربه فأبت ذلك؛ عليه أن يسكنها في منزل مفرد؛ لأنهن ربما يؤذينها ويضررن بها في المساكنة وإباؤها دليل الأذى والضرر ولأنه يحتاج إلى أن يجامعها ويعاشرها في أي وقت يتفق ولا يمكنه ذلك إذا كان معهما ثالث حتى لو كان في الدار بيوت ففرغ لها بيتا وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا: إنها ليس لها أن تطالبه ببيت آخر۔ اھ(ج:4،ص:23،ط: دار الکتاب الاسلامی)