کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ طلاق دینے کے بعد شوہر پر سابقہ بیوی کے لئے کونسا مالی خرچ شرعاً لازم ہوتا ہے ؟ کیا عدت مکمل ہونے کے بعد شوہر پر سابقہ بیوی کو نان ونفقہ دینا واجب ہے ؟کیا شریعت میں سابقہ بیوی کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ غیر مسلم ملک کی عدالت کے ذریعے نان ونفقہ (alimony) کا مطالبہ کرے؟ اگر عدالت شوہر کو نان ونفقہ دینے پر مجبور کرے تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اگر سابقہ بیوی جانتے بوجھتے ایسا مال طلب کرے جو اس کا شرعی حق نہیں ، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ اگر اس کےوالدین یا خاندان کے دیگر افراد اس مطالبے میں اس کی حمایت کریں، تو شریعت میں ان کے عمل کا کیا حکم ہے ؟
میں قرآن ،سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں فتویٰ کی درخواست کرتا ہوں ۔
واضح ہوکہ طلاق دینے کے بعددوران عدت شوہر پر سابقہ بیوی کے لئے شرعاً نان ونفقہ اور سکنی ٰ(یعنی مناسب کھانا پینا اور رہائش ) کاانتظام لازم ہوتاہے بشرطیکہ وہ اسی گھر میں یا شوہر کی اجازت سے کسی دوسری جگہ عدت گزار رہی ہو، لیکن عدت گزرنے کے بعد یہ حقوق شرعاً ساقط ہوجاتے ہیں جس کے مطالبہ کا شرعاً اسے حق حاصل نہیں ہوتا، اس کے باوجود اگر عورت غیر مسلم ملک کی عدالت کے ذریعے اپنے لئے نان ونفقہ یا مہر کے علاوہ ناحق دیگر رقوم کا مطالبہ کرتی ہے تو اس کا یہ مطالبہ خلاف شریعت ہونے کی وجہ سےناجائز ہے جس میں گھر والوں کا بھی اسے روکنے کے بجائے ساتھ دینا ایک ناجائز کام میں اس کا ساتھ دینے کے مترادف ہےجس سے انہیں احتراز لازم ہے تاہم اگر عدالت اس نان ونفقہ پر شوہر کو مجبور کرے تو اس مجبوری کی صورت میں دفع شر کے لئے شوہر اس کی ادائیگی کی وجہ سے گناہ گار نہ ہوگا ۔
کما فی القرآن :أَسۡكِنُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ سَكَنتُم مِّن وُجۡدِكُمۡ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُواْ عَلَيۡهِنَّۚ (سورۃ الطلاق،آیۃ نمبر6)
و فی الھدایۃ: وإذا طلق الرجل امرأته فلها النفقة والسكنى في عدتها رجعيا كان أو بائنا الخ(باب النفقہ،ج:2،ص:129،مط:مکتبۃ البشریٰ)
وفی الھندیۃ: المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان الأصل أن الفرقة متى كانت من جهة الزوج فلها النفقة، وإن كانت من جهة المرأة إن كانت بحق لها النفقة، وإن كانت بمعصية لا نفقة لها، وإن كانت بمعنى من جهة غيرها فلها النفقة الخ(الفصل الثالث في نفقة المعتدة،ج:1،ص:557،مط:مکبتبہ ماجدیہ)
وفی حاشیۃ شرح الوقایۃ:لان النفقۃ منوطۃ بالعدۃ ولا نفقۃ بعد العدۃ الخ(کتاب الطلاق باب النفقۃ،ج:2،ص:178،مط:مکتبہ امدادیہ ملتان)