بیوی کو اگر بولا جائے کہ
1. اگر تم گئیں تو وہیں رہنا میں لینے نہیں آؤں گا
2. امی سے بول کے اپنا سامان منگوا لو
3. 3 دن وہیں جانا
4. وارننگ دی تھی صبح
5. فی الحال تم نے سب ختم کر دیا
6. وہیں رہو
7. واپس نہیں آنا
1۔کیا ان لفظوں سے طلاق ہوتی ہے؟
2۔ سال پرانی بات ہے اور مجھے یاد نہیں کیا نیت تھی، بہت کوشش کی یاد کرنے کی، سمجھ نہیں آ رہا۔ یہ بات میرے دماغ میں مختلف ویڈیوز دیکھنے کے بعد آ رہی ہے۔
سائل کے ذکر کردہ الفاظ میں سے کوئی لفظ بھی صریح طلاق کا نہیں کہ جس سے وقوع ِ طلاق کا حکم کیا جاسکے جبکہ ذکرکردہ الفاظ میں اگر نیت کے بارے میں محص شک ہو کسی ایک جانب بھی غالب گمان نہ ہو تو ایسی صورت میں محض شک کی بناء پر سائل کے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، لہذا سائل اور اس کی بیوی حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ تاہم آئندہ اس طرح کے الفاظ سے بھی اجتناب کرنا چاہئے۔
و فی بدائع الصنائع:عدم الشك من الزوج في الطلاق وهو شرط الحكم بوقوع الطلاق حتى لو شك فيه، لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته؛ لأن النكاح كان ثابتا بيقين ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك ۰۰۰ثم شك الزوج لا يخلو: إما أن وقع في أصل التطليق أطلقها أم لا؟ وإما أن وقع في عدد الطلاق وقدره؛ أنه طلقها واحدة أو اثنتين أو ثلاثا، أو صفة الطلاق أنه طلقها رجعية أو بائنة فإن وقع في أصل الطلاق لا يحكم بوقوعه لما قلنا، وإن وقع في القدر يحكم بالأقل.اھ(فصل في الرسالة في الطلاق،ج:3،ص:126،ط:سعید)