میری بھانجی ہے، جسکی عمر اس وقت 26 سال ہوچکی ہے، اسکا نکاح بچپن میں جب وہ ایک سال کی تھی ،تو اسکی دادی نے اپنے پوتے کے ساتھ کرلیا تھا، اس نکاح میں نہ تو بچی کے باپ سے رضامندی لی گئی تھی ،اور نہ ہی والدہ سے، گاؤں اور دیہات کے دستور کے مطابق ماں باپ سے پوچھا نہیں جاتا تھا، دادی کو پورا اختیار تھا بچی کے معاملے میں،اور نکاح کے معاملے میں باپ کو کوئی اعتراض بھی نہیں تھا ، اب مسئلہ یہ ہے کہ خاندانی اختلافات کی وجہ سے لڑکا میری بھانجی سے شادی نہیں کرنا چاہتا ،اور نہ ہی طلاق دینا چاہتا ہے، بچی پھنس کر رہ گئی ہے، کیوں کہ وہ بچپن کے نکاح کے باعث کہیں اور شادی بھی نہیں کرسکتی ہے،جبکہ جس لڑکے سے بچپن کا نکاح ہوا ہے، وہ اسکو بیوی بھی نہیں بنا رہا ،اور نہ ہی طلاق دے رہا ہے، بچی کی زندگی خراب ہورہی ہے، آپ سے میرا یہ سوال ہے کہ اس سب کے بعد اس بچپن کے نکاح کی کیا حیثیت ہے؟ اور اب بچی کے لئے اسلامی رو سے کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر نکاح کے وقت لڑکی کے والد کی اجازت سے ایجاب و قبول ہوا تھا تو شرعاً وہ نکاح منعقد اور درست شمار ہوگا، اگرچہ ایک سال کی عمر میں ہوا ہو۔ لہٰذا جب نکاح شرعاً منعقد ہو چکا ،تو اب لڑکا اور لڑکی دونوں باہم میاں بیوی ہیں، اور نکاح کو بلا وجہ معلق رکھنا یا بیوی کو معلق چھوڑ دینا شرعاً سخت ناپسندیدہ اور ظلم کے مترادف عمل ہے۔اس صورت میں لڑکے پر لازم ہے کہ یا تو معروف طریقے سے بیوی کے حقوق ادا کرتے ہوئے گھر بسائے اور ازدواجی زندگی کو قائم کرے، یا اگر وہ کسی وجہ سے نباہ نہیں کر سکتا تو اچھے طریقے سے طلاق دے کر عورت کو آزاد کرے، تاکہ وہ کسی دوسری جگہ نکاح کرکے اپنی زندگی عفت اورپاکدامنی کے ساتھ گزار سکے۔لیکن اگر لڑکا ان دونوں میں سے کسی بھی طریقے پر آمادہ نہ ہو تووہ حکماً متعنت شمار ہوگا، لہٰذا ایسی مجبوری میں مذکور عورت کو نان نفقہ نہ دینے اور حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر بذریعہ قضاءِ قاضی فسخ نکاح کا حق حاصل ہوگا،جس کا طریقہ یہ ہے کہ مذکور عورت اپنا مقدمہ مسلمان حاکم ( جج ) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو ، وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعوٰی صحیح ثابت ہوجائے تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کردے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، اور عورت ایام عدت گزارے بغیر ہی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی الدرالمختار : (وهو) أي الولي (شرط) صحة (نكاح صغير ومجنون ورقيق) لا مكلفة اھ ۔ (باب الولی، ج:3، ص:55، م:سعید)
وفیہ ایضاً : (وللولي) الآتي بيانه (إنكاح الصغير والصغيرة)الي قوله(وإن كان المزوج غيرهما) أي غير الأب وأبيه ولو الأم أو القاضي أو وكيل الأب، لكن في النهر بحثا لو عين لوكيله القدر صح، (لا يصح) النكاح (من غير كفء أو بغبن فاحش أصلا) وما في صدر الشريعة صح ولهما فسخه اھ (باب الولي، ج:3، ص:65،68، م:سعید)
وفیہ ایضاً : (الوالي في النكاح) لا المال (العصبة بنفسه) وهو من يتصل بالميت حتى المعتقة (بلا توسطة أنثى) بيان لما قبله (على ترتيب الإرث والحجب) الی قولہ (فإن لم يكن عصبة فالولاية للأم) ثم لأم الأب وفي القنية عكسه اھ۔ (باب الولی، ج:3، ص:76،78، م:سعید)
وفیہ ایضاً : (وللولي الأبعد التزويج بغيبة الأقرب) فلو زوج الأبعد حال قيام الأقرب توقف على إجازته اھ۔
وفی الشامیۃ : (قوله حال قيام الأقرب) أي حضوره وهو من أهل الولاية أما لو كان صغيرا أو مجنونا جاز نكاح الأبعد ذخيرة اھ (باب الولی، ج:3، ص:81، م:سعید)
وفی الحیلۃ الناجزۃ:والمتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ:ان منعھا نفقۃ الحال فلہا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق او طلق و الا طلق علیہ، قال محشیہ : قولہ والا طلق علیہ ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم الی ان قال: وان تطوع بالنفقۃ قریب اواجنبی فقال ابن القاسم:لہا ان تفارق لان الفراق قد وجب لہا،وقال ابن عبدالرحمن:لا مقال لہا لان سبب الفراق ہو عدم النفقۃ قد انتہی وہو الذی تقضیہ المدونۃ کما قال ابن المناصب، انظر الحطاب،انتہی اھ(فصل فی حکم زوجۃ المتعنت، ص:150، ط:دار الاشاعت)