"میں 39 ہفتوں کی حاملہ ہوں، میرے شوہر نے مجھ سے کہا: ‘میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ بچے کی پیدائش کے بعد میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔’ اس کے بارے میں اسلامی احکام کیا ہیں؟
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق اگر سائلہ کے شوہر نے فقط مذکور الفاظ "کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ بچے کی پیدائش کے بعد میں تمہیں طلاق دے دوں گا" ہی کہے ہوں تو چونکہ یہ دھمکی اورمستقبل میں طلاق دینے کےعزم ارادہ پر مبنی الفاظ ہیں،اس لئے ان الفاظ سے تودونوں کےنکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، البتہ سائلہ کے شوہر کے لیے سائلہ کو طلاق کی دھمکیاں دینا مناسب نہیں جس سے اجتناب لازم ہے، جبکہ مذکور الفاظ سے چونکہ یمین اور قسم منعقد ہو چکی ہے ،اس لیے سائلہ کا شوہر اگر بچے کی پیدائش کے بعد طلاق نہیں دیتا تو وہ اپنے قسم میں حانث ہو گا، جس کے بعد اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا ،لیکن طلاق دینے کی کوئی معقول وجہ نہ ہو تو سائلہ کے شوہر کو چاہیے کہ بچے کی پیدائش کے بعد طلاق دینے کے عزم و ارادے کو ترک کر کے اپنے قسم کو توڑ کر قسم کا کفارہ ادا کرے۔
كما في مشكاة المصابيح: وعن عبد الرحمن بن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عبد الرحمن بن سمرة لا تسأل الإمارة فإنك إن أوتيتها عن مسألة وكلت إليها وإن أوتيتها عن غير مسألة أعنت عليها وإذا حلفت على يمين فرأيت غيرها خيرا منها فكفر عن يمينك وأت الذي هو خير وفي رواية: فأت الذي هو خير وكفر عن يمينك(كتاب الإيمان والنذور،ج:2،ص:1019،ط:المکتب الاسلامی)
وفی ردالمحتار: وأما الطلاق فان الأصل فیہ الحظر بمعنی انہ محظور الا لعارض یبیحہ وھو معنی قولھم الأصل فیہ الحظر والاباحۃ للحاجۃ الی الخلاص فاذا کان بلا سبب أصلا لم یکن فیہ حاجۃ الی الخلاص بل یکون حمقا وسفاھۃ رأی ومجرد کفران النعمۃ واخلاص الایذاء بھا وبأھلھا و أولادھا ۔۔۔۔۔ فحیث تجرد عن الحاجۃ المبیحۃ لہ شرعا یبقی علی أصلہ من الحظر ۔الخ(کتاب الطلاق،ج:3،ص:228،ط:سعید)
وفی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ: صیغۃ المضارع لایقع بھاالطلاق الا اذاغلب فی الحال۔الخ(کتاب الطلاق،ج:1،ص:38،ط:حقانیۃ)