اگر کوئی شخص غصے میں کہے اپنی بیوی سے کہ تو اپنی بھابھی سے بات کرے گی تو تو مجھ پر تین طلاق ہے تو اس سے تو ابھی اس وقت طلاق واقع نہیں ہوئی ، کیونکہ اس نے بات نہیں کی تو کیا ایسا کچھ طریقہ ہے ، تاکہ آپس میں بات کرسکے اور طلاق بھی واقع نہ ہوں، اور بندہ ڈپریشن کا بھی مریض ہے
سائل نے اپنی بیوی سے جوالفاظ کہے ”اگر تو اپنی بھابھی سے بات کرےگی تو تو مجھ پرتین طلاق ہے “ اس سے تعلیق طلاق منعقد ہو چکی ہے، لہذا اب اگر سائل کی بیوی نے بھابھی سے بات کی تو اس سے اس پر معلق تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی ، اس صورت میں نہ تو رجوع ہو سکے گا ، اور نہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کےدوبارہ عقدِ نکاح ہو سکے گا، اس لئے سائل کی بیوی کو اپنی بھابھی سے بات کرنے سے احتر از کر نا چاہیے اور اگر سائل یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی اپنی بھابھی سے بات چیت بھی کرے اور اس پر طلاق بھی واقع نہ ہو تو اسکے لئے یہ تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے کہ سائل اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن د یدے اور عدت کے اختتام تک سائل کی بیوی اپنی بھابھی سے بات ہرگز نہ کرے ، جب عدت گزر جائے تو سائل کی بیوی اپنی بھابھی سے بات کرلے ، اس وقت چونکہ اسکی بیوی اس کے نکاح میں نہیں ہو گی تو بات کرنےسے کوئی طلاق بھی واقع نہ ہوگی، اور شرط بھی پوری ہو جائے گی۔ اس کے بعد سائل گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرلے ، پھر اسکی بیوی اگر اپنی بھابھی سے بات کرےگی ، تو اس پر مزید کوئی طلاق واقع نہ ہو گی ، تاہم اس کے بعد سائل کو دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، اس لئے طلاق کے معاملے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
وفي الدر المختار: (وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها(3/355)-
وفی البدائع: ثم الشرط إن كان شيئا واحدا يقع الطلاق عند وجوده بأن قال لامرأته إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو أنت طالق إن دخلت هذه الدار يستوي فيه تقديم الشرط في الذكر وتأخيره وسواء كان الشرط معينا أو مبهما بأن قال إن دخلت هذه الدار أو هذه فأنت طالق أو قال أنت طالق إن دخلت هذه الدار أو هذه وكذلك إذا كان وسط الجزاء بأن قال إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو هذه الدار لأن كلمة أو ههنا تقتضي التخيير فصار كل فعل على حياله شرطا فأيهما وجد وقع الطلاق، وكذلك لو أعاد الفعل مع آخر بأن قال إن دخلت هذه الدار أو دخلت هذه سواء أخر الشرط أو قدمه أو وسطه.(3/30)-