میری ساس کی انکے خاوند سے پجھلے 17 سال سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انکی باقاعدہ طلاق ہوئی ہے۔ دوری کی وجہ انکے خاوند کا ناحق ظلم تھا وہ انکو اور بچوں کو بہت مار پیٹ کرتے تھے۔ انکے پانچ بچے ہیں جو آج بھی والد سے رابطہ رکھتے ہیں مگر رہتے اپنی والدہ کے ساتھ ہیں۔ کیا اس 17 سال کی دوری سے طلاق ہوچکی ہے یا رشتہ ابھی بھی قائم ہے؟
واضح ہو کہ اگر شوہر طلاق یا خلع وغیرہ کے ذریعہ نکا ح کو ختم نہ کرے تو محض میاں بیوی کا ایک دوسرے سے طویل عرصہ تک علیحدہ رہنے سے شرعا نکاح ختم نہیں ہوتا، لہذا سائل کے ساس و سسر کے درمیاں اگر طلاق یا خلع وغیرہ کے ذریعے نکاح ختم نہ ہوا ہو، تومحض طویل عرصے سے ایک دوسرے سے علیحدہ رہنے کی وجہ سے دونوں کا نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گذار سکتے ہیں ۔