اگر شوہر کہے: "کیا تمہیں طلاق چاہیئے؟" میں نے جواب دیا کہ آپ کیسی بات کہہ رہے ہو ،اس نے پھر کہا کہ میں نے یہ لفظ ایک بار کہا ہے، دوسری بار بھی کہوں گا۔ کتنی طلاقیں شمار ہوں گی؟
صورت مسؤلہ میں مذکور الفاظ "کیا تمہیں طلاق چاہیئے" چونکہ طلاق دینے کے لئے نہیں بلکہ استفسار کے لئے استعمال ہوتے ہیں، اس لئے ان الفاظ سے اگرچہ طلاق کی نیت ہی کیوں نا کی گئی ہو تب بھی اس کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،تاہم آئندہ طلاق کے الفاظ کے استعمال سے خوب احتیاط چاہیے۔
کما فی البحر الرائق: ولو قال أريديه أو أحبيه أو اهويه أو ارضيه ناويا فأجابته لا يقع لأنها عبارة عن الطلب فلا يستلزم الوجود بخلاف المعلق على إرادتها ونحوه إذا وجد الشرط يقع،اھ(كتاب الطلاق،فصل في المشيئة،ج: 3،ص: 364،مط: دارالکتاب الاسلامی)
و فی فتح القدیر: ولو قال: شائي طلاقك ناويا للطلاق فقالت: شئت وقع، ولو قال أريديه أو اهويه أو أحبيه أو ارضيه ينوي الطلاق فقالت: أردته أحببته هويته رضيته لا يقع اھ(كتاب الطلاق،فصل في المشيئة،ج: 4،ص: 105،مط: دارالفکر)