میرا سوال یہ ہے کہ مجھے میرے شوہر نے دو طلاقیں دی ہیں، اور جب دوسری طلاق دی گئی تو اس وقت ماہواری (حیض) کا تیسرا دن تھا، کیا وہ مہینہ عدت کے تین مہینوں میں شمار ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر کی طرف سے دی جانے والی پہلی طلاق کے بعد شوہر نے اگر سائلہ سے رجوع کر لیا ہو اس طور پر کہ اس طلاق کے بعد میاں بیوی ازدواجی حیثیت سے ساتھ رہتے رہے ہوں یا زبانی طور پر اسے اپنی بیوی وغیرہ کہہ کر رجوع کر لیا ہو تو رجوع درست ہونے کے بعد سابقہ طلاق کے بعد عدت کا حکم ساقط ہو چکا تھا، اور اس صورت میں عدت کی ابتدا بعد میں دی جانے والی طلاق سے ہوگی۔ پھر اس صورت میں جس حیض میں طلاق دی تھی، وہ عدت میں شمار نہیں ہوگا بلکہ اس سے پاک ہونے کے بعد اس کے علاوہ تین ماہواریوں سے عدت پوری ہوگی۔ البتہ اگر اس پہلی طلاق کے بعد شوہر نے رجوع نہ کیا ہو، تو عدت کی ابتدا پہلی طلاق سے ہو چکی تھی، اور بعد میں دورانِ عدت (چاہے وہ دورانِ حیض ہی کیوں نہ ہو) دی جانے والی دوسری طلاق سے عدت دوبارہ سے شروع نہ ہوگی بلکہ پہلی طلاق کے بعد سے مجموعی طور پر جب تین حیض گزریں گے تو پھر عدت مکمل شمار ہوگی۔
کما في بدائع الصنائع:ثم إذا وقع عليها ثلاث تطليقات في ثلاثة أطهار فقد مضى من عدتها حيضتان إن كانت حرة لأن العدة بالحيض عندنا، وبقيت حيضة واحدة فإذا حاضت حيضة أخرى فقد انقضت عدتها .اھ(باب الطلاق بحق الصفة وهو نوعان سنة وبدعة،ج:3،ص:89،ط:سعید)
وفي شرح مختصر الكرخي: قال: وإذا طلق الرجل المرأة الحرة ثلاثا للسنة وهي ممن تحيض؛ بقي عليها من عدتها حيضة؛ وذلك لأنه طلقها ثلاثا في ثلاثة أطهار ومضت حيضتان، وانقضاء العدة يكون بالحيض عندنا، فبقي عليها حيضة، وإن كانت بالشهور بقي عليها شهر واحد؛اھ(فصل طلاق المرأة التي تحيض ثلاثا للسنة،ج:3،ص:545،ط:دار اسفار)
وفي رد المحتار تحت:(قوله بعد الوطء لا الخلوة) أي لا تجب بعد الخلوة المجردة عن وطء، ووجوب العدة بعد الخلوة ولو فاسدة إنما هو في النكاح الصحيح. اھ (کتاب النکاح، ج: 3،ص:133،ط: سعيد).