کیافرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:ہم میاں بیوی کے نکاح کو تقریباً ایک ڈیڑھ سال ہوا ہے۔ تقریباً ایک ماہ قبل موبائل پر لڑائی جھگڑا ہوا، اور میں نے اپنی بیوی کو یہ جملہ ”میں طلاق دیتا ہوں“ دو بار کہا، جس پر میری بیوی نے فون کاٹ دیا تو میں خاموش ہو گیا۔ اگلے دن میں نے اپنے بھائی کو انہی طلاقوں کی خبر دینے کے لیے کہا کہ: میں نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا ہے۔ اس صورت حال میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃ ًدرست اور مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی قسم کی کمی بیشی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائل نے اپنی بیوی کو فون پر سوال میں مذکور الفاظ ”میں طلاق دیتا ہوں“ فقط دو دفعہ کہے ہوں ، اور اس کے اگلے دن اپنے بھائی کو سابقہ دو طلاقوں کی اطلاع اور خبر دینے کی غرض سے مذکور الفاظ کہہ دیئے ہوں" میں نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا ہے " تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر دو طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہیں، جس کے بعد سائل کو عدت کے دوران رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، چنانچہ اگر سائل دورانِ عدت رجوع کر لیتا ہے ،تو دونوں میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہو گا، تاہم آئندہ کے لئے سائل کو فقط ایک طلاق کا اختیا ر ہوگا، اس لئے آئندہ کے لئے طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا لازم ہو گا۔
کما فی الہدایة: قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي " لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص " ولا يفتقر إلى النية " لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال " اھ( باب ایقاع الطلاق ج:1ص : 225 ،ناشر: بیروت)
وفی بدائع الصنائع : ولو قال لامرأته: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت؟ فقال: طلقتها أو قال قلت: هي طالق فهي واحدة في القضاء؛ لأن كلامه انصرف إلى الإخبار بقرينة الاستخبار اھ( فصل فی النیة فی احد نوعی الطلاق ج:3ص : 102 ناشر: سعید )