شادی کے موضوع پر گفتگو ہو رہی ہو (طلاق کے موضوع پر نہیں)، بحث یا بات چیت کے دوران اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی غیرموجودگی میں کسی دوسرے فرد سے یہ کہے، اور کہنے سے پہلے اس کے ذہن میں یہ خیال ہو کہ "فارغ" کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، پھر وہ کہے: "میں اسے ابھی فارغ کر دیتا ہوں" یا "بتا دو، میں اسے فارغ کر دیتا ہوں"، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ کیا اس سے صرف مستقبل کے ارادے کا اظہار سمجھا جائے گا یا واقعی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔
واضح ہو کہ لفظ ’’فارغ‘‘ جب طلاق یامذاکرہ طلاق کے پس منظرمیں بیوی کی طرف نسبت کرکے ماضی یا حال کے صیغہ کے ساتھ بولا جائے توچونکہ عرف میں یہ لفظ طلاقِ صریحِ بائن کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیےاس سے بغیر نیت بھی طلاق واقع ہوجائیگی، تاہم شخص مذکور نے اگرمذکورہ الفاظ مستقبل کے صیغے’’میں اسے ابھی فارغ کر دیتا ہوں‘‘یا ’’بتا دو، میں اسے فارغ کر دیتا ہوں‘‘کے ساتھ استعمال کیے ہوں تو مذکور دونوں جملوں سےاس کی بیوی پر شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، بلکہ دونوں کا نکاح بدستور بر قرار ہے،تاہم آئندہ اس طرح کے جملے استعمال کرنے سے اجتناب چاہیے ۔
كما في الدرالمختار: (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب فالحالات ثلاث: رضا (الى قوله) يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى اھ (باب الكنايات، ج: ٣، ص: ٢٩٦، ط: سعيد)
وفي الهندية: فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك.في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا اھ (الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية، ج: ١، ص: ٣٨٤، ط: ماجدية)
وفی البحر الرائق: وليس منه أطلقك بصيغة المضارع إلا إذا غلب استعماله في الحال كما في فتح القدير اھ (باب الفاظ الطلاق ،ج: ٣، ص: ٢٧١، ط: دار الكتاب الاسلامى)
وفی عقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ: صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام الخ (كتاب الطلاق، ج: ١، ص: ٣٨، ط: دار المعرفة)