کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں ایک جناز گاہ ہے اور اس کی چھت کے نیچے چند قبریں ہیں اور علاقے کے لوگ یہاں عید کی نماز بھی ادا کرتے ہیں ، اور اب علاقے کے چند علماء کرام فرماتے ہیں کہ اس جناز گاہ میں جنازہ کی نماز تو ادا ہوتی ہے لیکن عید کی نماز ادا نہیں ہوتی کیونکہ اس میں سجدہ ہوتا ہے اور اس کے نیچے قبریں ہیں اور قبروں پر سجدہ سے منع کیا گیا ہے اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا اس جناز گاہ میں وہ نماز ادا ہوتی ہے جس میں سجدہ ہوتا ہے کہ نہیں ؟
صورت مسئولہ میں مذکور قبرستان پر بنی ہوئی چھت پر نماز ادا کرتے ہوئے چونکہ سجدہ کرتے وقت ماتھا چھت پر ٹگایا جاتا ہے، نہ کہ مذکور قبروں پر، نیز یہ قبریں بھی نمازیوں کے سامنے نہیں، بلکہ چھت کے نیچے واقع ہے، اس لئے یہ صورت اس ممانعت کے تحت نہیں آتی۔
كما في حاشية ابن عابدين: وفي القهستاني: لا تكره الصلاة في جهة قبر إلا إذا كان بين يديه؛ بحيث لو صلى صلاة الخاشعين وقع بصره عليه كما في جنائز المضمرات اھ (باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، ج: ١، ص: ٦٥٣، ط: سعيد)
وفي الفقه على مذاهب الاربعة: وكذا تكره الصلاة في المقابر على تفصيل في المذاهب الحنفية قالوا: تكره الصلاة في المقبرة إذا كان القبر بين يدي المصلي؛ بحيث لو صلى صلاة الخاشعين وقع بصره عليه. أما إذا كان خلفه أو فوقه أو تحت ما هو واقف عليه، فلا كراهة على التحقيق. وقد قيدت الكراهة بأن لا يكون في المقبرة موضع أعد للصلاة لا نجاسة فيه ولا قذر، وإلا فلا كراهة، وهذا في غير قبور الأنبياء عليهم السلام، فلا تكره الصلاة عليها مطلقاً اھ (الصلاة في المقبرة، ج: ١، ص: ٢٥٣، ط: دارالكتب العلمية)