محترمی و مکرمی مفتی صاحب !السلام علیکم ،مفتیان صاحبان اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ ایک شادی شدہ آدمی وہ خود سعودی عرب میں ہو ، اور اس کی زوجہ کراچی میں ہو ، کسی وجہ سے وہ اپنی بیوی کے ساتھ فون پر بات کررہاہو ، اس طرح ناراضگی کی صورت میں وہ فون پر یہ الفاظ کہے کہ "طلاق طلاق طلاق تین طلاق "اور یہ الفاظ ریکاڈ میں بھی موجود ہے ، اس مسئلے کے بارے میں کہ دینِ شرعی میں یہ طلاق واقع ہوگیا ہے یا نہیں ،میں امید کرتاہوں کہ آپ فتوٰی جاری فرماکر شکریہ کا موقع دیں ۔فقط والسلام
واضح ہو کہ فون پر طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں درجِ بالاالفاظ کہنے سے مذکور شخص کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح شرعاً درست ہے، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی شرعاً آزاد ہے۔
کما فی ردالمحتار: تحت قولہ : ( لترکہ الاضافۃ ) ولا یلزم کون الاضافۃ صریحۃ فی کلامہ ، لما فی البحر لو قال طالق فقیل لہ من عنیت ؟ فقال امراتی طلقت امراتہ اھ( باب الصریح،ج:3،ص:248،ط:سعید)
وفی الھندیۃ: متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق اھ(کتاب الطلاق،الباب الثانی، الفصل الاول فی الطلاق الصریح،ج :1،ص: 356،ط:ماجدیہ)
وفی بدائع الصنائع : وحال الغضب ومذاكرة الطلاق دليل إرادة الطلاق ظاهرًا فلايصدق في الصرف عن الظاهر اھ(كتاب الطلاق،ج:3، ص: 102، ط:سعید)