کیافرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ مسمٰی سمیع اللہ نے اپنی بیوی مسماۃزینت بیگم کو فون پر دو مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے تھے ،"تہ پہ ما طلاق ئے" لیکن میری بیوی نے فون بند کردیاتھا، یہ چار مہینے پہلے کی بات ہے، اس دوران ہم الگ رہےتھے، رجوع بھی نہیں کیاتھا، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کتنی طلاقیں واقع ہوئیں، اور اب اگر ہم گھر آباد کرنا چاہیں، رجوع کرنا چاہیں، تو اس کا کیا طریقہ ہے؟۔نوٹ: بیوی کا بھی یہی بیان ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل مسمٰی سمیع اللہ نے فون پر بات کرتے ہوئے جب اپنی بیوی مسماۃ زینت بیگم کو"تہ پہ ما طلاق ئے"(تم مجھ پر طلاق ہو)کے الفاظ دومرتبہ کہے، تو اس سے اس کی بیوی پر دو طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھیں، اس کے بعد سائل کے دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی وجہ سے دونوں کا اب نکاح ختم ہوچکا ہے، چنانچہ اب سائل کی بیوی اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، تاہم اگر سائل اور اس کی مطلقہ بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے ، مگر اس کے لئے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرکے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا ، البتہ تجدید نکاح کے بعد سائل کے پاس آئندہ کے لئے صرف ایک ہی طلاق کا اختیار باقی رہے گا ، جب کبھی ایک طلاق بھی دیدے گا ، تو اس کی بیوی اس پرحرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
كما في الفقه الإسلامي وأدلته : أما الطلاق الرجعي: فهو الذي يملك الزوج بعده إعادة المطلقة إلى الزوجية من غير حاجة إلى عقد جديد ما دامت في العدة، ولو لم ترض. وذلك بعد الطلاق الأول والثاني غير البائن إذا تمت المراجعة قبل انقضاء العدة، فإذا انتهت العدة انقلب الطلاق الرجعي بائنا، فلا يملك الزوج إرجاع زوجته المطلقة إلا بعقد جديد اھ(انواع الطلاق وحکم کل نوع، ج: 7، ص: 413، م: رشیدیۃ)
و فی الھندیة: (الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز. اھ ( الفصل الاول فی الطلاق الصریح،ج:1،ص:354،م:ماجدیۃ۔)