کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کو کہا جبکہ وہ اپنے والد کے گھرمیں تھی تو میں نے ان کو کہا کہ اپنے گھر آجاؤ، تو اس حالت میں ہم دونوں غصے میں تھے تو میں نے اپنی بیوی کو تین دفعہ طلاق دیدی، طلاق کے الفاظ یہ ہے کہ میں ہوش و حواس میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں ، تین مرتبہ کہا اور یہ ویڈیو بنا کر بھیج دیا ،جبکہ میرے تین بچے ہیں ،دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ،لہذا مہربانی فرما کر شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائے ، جزاک اللہ خیرا
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔،لہذا صورت مسؤلہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو ، سوال میں مذکور صریح الفاظ کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں " کے ساتھ تین مرتبہ طلاق دیدی ہے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالہ کے دوبارہ میاں بیوی کا نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : ( الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ) الآية ، يدل على وقوع الثلاث معامع كونه منهياعنها،اھ(ج: ١ ، ص : ٣٨٦ )
وفیہ ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت،معصية، اھ (ج:١، ص: ٣٨٧ )
و فی الفتاوی الھندیۃ : و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ (ج:١،ص:٣٥٥،مط: ماجدیۃ)
كما في الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اه (كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )
وفي الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله،اه(باب الرجعة، ج: ٣، ص: ٤١٠، مط: سعيد)
وفی الھدایۃ:و یقع طلاق کل زوج إذا كان عاقلا بالغا.(كتاب الطلاق،ج:٢،ص:٥٩،مط:انعامیہ)