م
محترم مفتیانِ کرام / دارالافتاء
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
عرض ہے کہ میرے ازدواجی معاملات میں طلاق سے متعلق متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن کی شرعی حیثیت واضح نہیں ہے۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں:
میرے نکاح کے دوران مختلف اوقات میں طلاق سے متعلق تین واقعات پیش آئے:
1. ایک واقعہ تقریباً 10 سال قبل پیش آیا، جس کے بعد تعلقات مکمل طور پر واضح طور پر ختم نہیں ہوئے،
2. دوسری مرتبہ اس وقت صورتحال بنی جب میں نے اپنے شوہر کے خلاف FIR درج کروائی۔ اس دوران انہوں نے طلاق سے متعلق دستاویز پر دستخط کیے، تاہم ان کی نیت واضح نہیں تھی اور بعد میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ جذباتی حالت میں کیا گیا تھا۔
اب گزارش ہے کہ شرعی طور پر وضاحت فرمائیں:
کیا ان واقعات میں طلاق واقع ہو چکی ہے یا نہیں؟3. تیسری مرتبہ بھی طلاق سے متعلق الفاظ/عمل ہوا مگر اس کی نیت اور شرعی نوعیت میں ابہام موجود ہے۔
مزید یہ کہ یونین کونسل کی سطح پر صرف دو طلاقوں کی اطلاع ظاہر کی گئی ہے، جبکہ ہمارے درمیان ازدواجی تعلقات مختلف اوقات میں جاری و ساری رہے
اگر واقع ہوئی ہے تو کتنی طلاقیں شمار ہوں گی؟
کیا ہمارا نکاح باقی ہے یا ختم ہو چکا ہے؟
اگر نکاح ختم ہو چکا ہے تو کیا دوبارہ نکاح یا رجوع کی گنجائش موجود ہے؟
میں مکمل طور پر شرعی رہنمائی کے مطابق فیصلہ کرنا چاہتی ہوں۔
جزاکم اللہ خیراً
شوہر نے پہلی اور تیسری طلاق دیتے وقت کیا الفاظ بولے تھے،اس کی وضاحت کریں،اور دوسری طلاق کیلئے شوہر نے جو طلاق کے پیپر پر دستخط کئے تھے وہ پیپر کی صاف تصویر بھیجیں ،اور یہ بھی بتائیں کہ ان طلاقوں کے درمیان کبھی ایسا بھی ہوا کہ عدت یعنی ماہواریاں گزر گئی ہوں اور آپ دونوں کے درمیان رجوع نہ ہوا ہو،ان سب باتوں کو واضح کریں تاکہ اس پر غور کے بعد جواب دیا جاسکے۔شکریہ
پہلی دفعہ میں حمل میں تھی اور ایک بار میں طلاق دیتا ہوں غصہ میں کہا تھا اور گواہ موجود نہیں تھیں ہر دفعہ عدت سے پہلے رجوع ہوگیا تھا،
باقی دو طلاقوں کے نوٹس موجود ہیں وہ وصول کرلینا۔
اگر منسلکہ طلاق نامہ مطابق اصل ہو،اور سائل کا بیان واقعۃ سچ اور حقیقت پر مبنی ہو، اس میں کسی قسم غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے ایک بار صریح الفاظ کے ذریعہ ایک طلاق دینے کے بعد دوران عدت سائلہ سے رجوع کرلیا ہو، تو شرعاً بھی یہ رجوع درست ہوا ہے، چنانچہ اس رجوع کے بعد لڑائی جھگڑے کے دوسرے واقعہ میں سائلہ کے شوہر نے منسلکہ تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بنواکر اس پر دستخط کر دئے تو اس سے سائلہ پر مزید دو طلاقیں واقع ہوکر مجموعی طور پر تین طلاقوں سے حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی تھی اور بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی تھی، جس کے بعد ان دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہ تھا،لہذا اب تک ساتھ رہنے کی جو کوتاہی ہوئی ہے، اس پر بصدق دل توبہ واستغفار کرتے ہوئے، دونوں پر فوراً ایک دوسرے سے علحیدگی اختیار کرنا اور میاں بیوی والا تعلقات قائم کرنے سے اجتناب لازم ہے ورنہ دونوں سخت گنہگار ہونگے، جبکہ اس عرصہ کے دوران حرمت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے میاں بیوی ایک دوسرے سے تعلق میں رہے ہوں، تو سائلہ پر نئے سرے سے عدت گزارنی لازم ہوگی، جس کے بعد وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کمافی الدر المختار: (وإذا وطئت المعتدة بشبهة) ولو من المطلق (وجبت عدة أخرى) لتجدد السبب الخ:کتاب الطلاق،ج:3،ص:518،مط:ایچ ایم سعید)
وفی الرد تحت (قولہ وإذا وطئت المعتدة) أي من طلاق، أو غيره هو منتقى، وكذا المنكوحة إذا وطئت بشبهة ثم طلقها زوجها كان عليها عدة أخرى وتداخلتا كما مر في الفتح وغيره (قوله: بشبهة) متعلق بقوله وطئت، وذلك كالموطوءة للزوج في العدة بعد الثلاث بنكاح، وكذا بدونه إذا قال ظننت أنها تحل لي، أو بعدما أبانها بألفاظ الكناية، وتمامه في الفتح، ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا، وفي البزازية: طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرا طلاقها لا تنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل. وجعل في النوازل البائن كالثلاث والصدر لم يجعل الطلاق على مال والخلع كالثلاث، وذكر أنه لو خالعها ولو بمال ثم وطئها في العدة عالما بالحرمة تستأنف العدة لكل وطأة وتتداخل العدد إلى أن تنقضي الأولى، وبعده تكون الثانية والثالثة عدة الوطء لا الطلاق حتى لا يقع فيها طلاق آخر ولا تجب فيها نفقة اهـ (مطلب في وطء المعتدة بشبهة، ج:3،ص:518،مط:ایچ ایم سعید)
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] اھ(کتاب الطلاق فصل في حكم الطلاق البائن،ج:3،ص:187،مط:ایچ ایم سعید)