کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذيل مسئلہ میں کہ: مىں نے اپنی بیوی کو وائس میسج کے ذریعے طلاق كےالفاظ بولے ہیں، معلوم ىہ کرنا ہے کہ اس سے کتنی طلاقیں واقع ہوئىں ؟ اور اب آئندہ ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ الفاظ یہ ہىں: "عائشہ تم جہاں کہیں بھى ہو تمہارے كو میں طلاق دے رہا ہوں"، بس آجا کہیں بھی آجا میں نے طلاق کی ہر چیز کاغذ وغیرہ بنا دیئے۔ "میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں"، بس صرف یہی الفاظ بولے ہیں، باقی کاغذات وغیرہ کچھ بھی نہیں بنائے وىسے ہی بول دیا تھا ۔جو بھی شرعی حکم ہو آگاہی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی مسماة " عائشہ "كو وائس میسج کے ذریعےدو بار ىہ الفاظ كہے" میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں" تو اس سے سائل كى بىوى پر دو طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہیں،جس کا حکم یہ ہےکہ دورانِ عدت سائل کو رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے،چنانچہ سائل اگر دورانِ عدت اپنی بیوی کو "میں تم سے رجوع کرتا ہوں وغیرہ" جیسے الفاظ کے ذریعے زبانی طور پر یا میاں بیوی والا تعلق قائم کرکے عملی طور پر رجوع کرلے،تو اس سے رجوع درست ہوجائے گا،اور دونوں میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہےگا، بصورتِ دیگر یعنی شوہرکا عدت کے دوران رجوع نہ کرنے کی صورت میں ایامِ عدت گزرجانے کے بعد یہ طلاقیں طلاقِ بائن بن جائیں گی، اور اس سے میاں بیوی کا نکاح بالكلىہ ختم ہوجائے گا،جس کے بعد شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار نہ ہوگا،البتہ ایسی صورت میں اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں ،تو اس کے لئے باضابطہ گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا، تاہم بہر دو صورت سائل کے پاس آئندہ کیلئے ايك طلاق کا اختیار باقی رہے گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہىے۔
کما في الفتاوى الهندية: في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا الخ (كتاب الطلاق، الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية، ج:1 ص:384 ط: ماجدیة)
وفي رد المحتار تحت قوله: (أو لم ينو شيئا) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، وحققه في النهرالخ (کتاب الطلاق، ج:3 ص:250 ط: سعید)
وفي الهداية: الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي" لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص "ولا يفتقر إلى النية" لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال "وكذا إذا نوى الإبانة" لأنه قصد تنجيز ما علقه الشرع بانقضاء العدة فيرد عليه الخ (كتاب الطلاق، باب إيقاع الطلاق، ج:1 ص:225 ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)
وفيها أيضاً: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض" لقوله تعالى: {فأمسكوهن بمعروف} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها الخ (کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:2 ص:254 ط: دار إحياء التراث العربي بيروت)
وفي الفتاوى الھندیة: (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة الخ(کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1 ص:467 ط: ماجدیة).