کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ایک لڑکی کا نکاح ایک لڑکے سے آج سے تقریباً چھ سال قبل ہوگیا تھا ، اس نکاح سے ہمارے دو بچے ہیں ، ہمارے دونوں میاں بیوی کے درمیا ن کچھ باتیں ہوگئیں ہیں طلاق کے متعلق ، جس میں میاں بیوی کا اختلاف ہے،
بیوی کا حلفیہ بیان: میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دیتی ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گی سچ کہوں گی ، اگر میں نے بیان میں جھوٹ اورغلط بیانی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا ، گھر میں رقم کی معمولی لڑائی جھگڑے میں میں نے اس سے طلاق کا مطالبہ کیا ،تو اس نے مجھے جواب میں کہا" تہ پہ ما طلاقہ ئے"تم مجھ پر طلاق ہو ، میں نے کہا کہ محمد رشید تم کیا کہہ رہے ہو ، تو اس نے پھر دو مرتبہ کہا کہ " تہ پہ ما طلاقہ ئے، تہ پہ ما طلاقہ ئے" ۔
شوہر کا حلفیہ بیان: میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دیتا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گاسچ کہوں گا ، ، اگر میں نے بیان میں جھوٹ اوردروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا ،کہ اس لڑائی کے دوران میری بیوی نے مجھ سے طلا ق کا مطالبہ کیا تو میں نے صرف دو مرتبہ یہ الفاظ بولے تھے " تہ پہ ما طلاقہ ئے"تم مجھ پر طلاق ہو،
نیز سائلہ کا یہ بھی بیان ہے کہ اس واقعہ سے بہت پہلے میرے شوہر نے ایک موقع پر مجھے کہا تھا کہ اگر تم نے کامران کو " بخیر راغلے "کہا تو تم مجھ پر طلاق ہوگی ، پھر کافی عرصہ تک میں نے ان کو نہ سلام کیا نہ بات چیت کی، البتہ جب طلاق کی عدت گزر گئی تو میں نے اس کو سلام کیا " پخیر راغلے " کہا ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بیوی کے بقول تین طلاق اور شوہر کے بقول دو طلاق کی عدت کے دوران ہم نے بیس بائیس دن کے بعد ہمبستری کی تھی، تو گویا کہ شوہر کے دو طلاق کے بعد رجوع ہوگیا تھا، تو اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب ہمارے لیے کیا حکم ہے۔
صورت مسئولہ میں میاں بیوی مذکور واقعہ میں دو مرتبہ طلاق کے الفاظ کہنے میں تو متفق ہیں ، البتہ تین مرتبہ کہنے میں دونوں کا اختلاف ہے ، بیوی تین مرتبہ کا دعوی کررہی ہے ، جبکہ ا س کے پاس اپنی بات پر شرعی گواہان موجود نہیں، اور شوہر دو طلاقوں کا دعوی اور تیسری طلاق دینے سے منکر ہے، البتہ شوہرچونکہ اس سے پہلے معلق ایک طلاق دینے کا اقرار کررہا ہے، چونکہ سوال میں ذکر کردہ واقعہ کے بیس بائیس دن کے بعد دونوں کے درمیان ہمبستری بھی ہوئی ہے، تو اگر شوہر کی بات بھی قسم کے ساتھ مان لی جائے تو ایسی صورت میں دوران عدت ہمبستری کر لینے سے رجوع متحقق ہوچکا تھا اور نکاح بر قرار تھا، چنانچہ اگر اس کے بعد بیوی نے مذکور شخص کو " پخیر راغلے" کہہ دیا ہے تو اس سے تیسری طلاق بھی واقع ہوکر تین طلاقوں کےذریعہ حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : ( الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ) الآية ، يدل على وقوع الثلاث معامع كونه منهياعنها،اھ(ج: ١ ، ص : ٣٨٦ )
وفیہ ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت،معصية، اھ (ج:١، ص: ٣٨٧ )
و فی الفتاوی الھندیۃ : و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ (ج:١،ص:٣٥٥،مط: ماجدیۃ)
كما في الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اه (كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )
وفي الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله،اه(باب الرجعة، ج: ٣، ص: ٤١٠، مط: سعيد)
و فی الہندیۃ: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق (الی قولہ) التعليق بصريح الشرط وهو أن يذكر حرف الشرط يؤثر في المرأة المعينة وغير المعينة، اہ (کتاب الطلاق ، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، ج:١، ص: ٤٢٠، مط: ماجدية )