مفتی صاحب ہمارے دا ماد نے ہماری بیٹی کو ایک ماہ سے ہمارے گھر میں بٹھایا ہوا ہے ۔اور ایک ماہ بعد اسے طلاق نامہ بھجوادیا ہے، جب کہ ہماری بیٹی حاملہ بھی ہے، ہمارا سوال یہ ہے کہ اس طرح اس حالت میں طلاق واقع ہو جا ئے گی یا نہیں ؟ برائے مہر بانی تحریر جواب میں مطلع فر ما ئے ۔
واضح ہو کہ حمل کی حالت میں طلاق دینا اگر شرعاً ناپسندیدہ طریقہ ہے ، تاہم اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے داماد نے سائل کی بیٹی کو جو طلاق دی ہے ، وہ شرعاً واقع ہو چکی ہے چنانچہ سائل کی بیٹی ایام عدت ( بچے کی پیدائش ) کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی التنزیل العزیز:الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ( سورۃ البقرہ الآیہ 229 )
قال للہ تعالی: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ ( سورۃ البقرہ الآیہ: 230 )
وکما فی البنا یۃ :وطلاق الحامل يجوز عقيب الجماع، لأنه لا يؤدي إلى اشتباه وجه العدة، وزمان الحبل زمان الرغبة في الوطء لكونه) ش: أي لكون الوطء م: (غير معلق) ش: أي غير محبل م: (أو يرغب فيها) ش: عطف على قوله في الوطء، والضمير يرجع إلى الحامل يعني أن زمان الحبل زمن الرغبة في الوطء، لأنه في حالة الحبل غير معلق، وهو زمان الرغبة في الحامل م: (لمكان ولده منها) ش: أي لأجل حصول ولده من الحامل م: (فلا تقل الرغبة بالجماع) ش: لأن الولد داع إلى رغبة الرجل في أمه، ولما كان زمان الرغبة لا يقع طلاقها عقيب الجماع.اھ ( ج:5 طلاق الحامل عقیب الجماع ص : 291 ناشر :بیروت)
وفی حاشیۃ ابن العابدین : ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب ،الخ (ج:3 مطلب فی طلاق الکتابۃ ص : 246 ناشر سعید )
وفی المبسوط للسرخسی : {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن} [الطلاق: 4] يوجب عليها العدة بوضع الحملا، الخ (باب العدۃ ج: 6 ص : 31 ناشر : المطبعۃ السعادۃ )