کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بیٹے اور اس کی زوجہ میں تلخ کلامی ہوئی ،بات اتنی بڑھ گئی کہ میرے بیٹے نے ایک سادے پیپر پر طلاق ،طلاق ،طلاق، لکھ کر دے دیا اور زبان سے یہ الفاظ نکالے کہ اب میرا کوئی رشتہ نہیں ہے،یا تو یہ رہے گی یا پھر میں ،یہ الفاظ اسی دن اسی وقت دو سے تین بار دہرائے اور زوجہ کے بھائی کو فون کر کے کہا کہ اپنی بہن کو آکر لے جاؤ میں نے اسے چھوڑ دیا ہے،یہ سارے الفاظ بیٹے نے اپنی بچیوں کے سامنے کہے ہیں،جس میں دو بچیاں بالغ ہیں ،میرے سامنے طلاق کا پرچہ تھا ،لیکن جب میں ان کے سامنے گئی تو میرے بیٹے نے مجھ سے کہا کہ میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے اور اب وہ میری طرف سے فارغ ہے۔میرے بیٹے نے سات آٹھ سال پہلے ایک طلاق دے چکا تھا،اب آپ اللہ کے بنائے ہوئے قانون اور سنت اور شریعت کے مطابق ہماری رہنمائی فرمائیں ،بڑی مہربانی ہوگی۔
سائلہ کے بیٹے نے عرصہ آٹھ سال قبل اگر واضح اور صریح لفظ مثلاً "طلاق دیتا ہوں"کے ذریعے ایک طلاق دی ہو،جس کے بعد اس نے دوران عدت بیوی سے رجوع کر لیا ہو،تو شرعاً بھی یہ رجوع درست ہو کر میاں بیوی کا ساتھ رہنا درست تھا،چنانچہ اب حالیہ واقعہ میں جب سائلہ کے بیٹے نے تین بار الفاظ طلاق "طلاق ،طلاق،طلاق،لکھ کر تحریری طور پر بیوی کو مزید تین طلاقیں دیدیں ہے ،تو اس سے اس کی بیوی پر مزید دو طلاقیں بھی واقع ہو کر مجموعی طور پر تین طلاقوں سے حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،جبکہ بقیہ ایک طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہے،لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا اور عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی رد المحتار: وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة،اھ (ج: 3،ص: 246،مط: دار الفکر)
و فی الھندیۃ: الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة الی قولہ وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة،اھ (ج: 1،ص: 378،مط: دار الفکر)
و فیھا ایضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية،اھ(كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ١،ص: ٤٧٣، ط: دار الفكر)
و فی الھدایۃ: وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها" لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله،اھ( باب الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة،ج: 2،ص: 257،مط: دار احیاء التراث)