کیافرماتےہیں علماءکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسماۃ ڈاکٹر ثناء سہیل انوری کی شادی مسمیٰ اعتزاز احمد کشمیری سے 21 دسمبر 2018 میں ہوئی، شادی کے تقریباً 7 سال بعد 24 فروری 2026 کی صبح میرا اپنےشوہر سے جھگڑا ہوا، جس میں میرے شوہر نے شادی کے موقع پر دیے جانے والے زیورات کی واپسی کا مطالبہ کیا، میں نے وہ زیورات ان کی والدہ کے حوالہ کرنے کا وعدہ کیا،لیکن انہوں نےدرازکا لاک توڑ کر وہ زیورات نکال لیے ،جس کی وجہ سے جھگڑا بڑھ گیا اورمیرےشوہرنے تین بار صریح الفاظ میں اپنی والدہ اور والد کے سامنے یہ الفاظ اداکیے " میں نے اسے طلاق دی ، طلاق دی، طلاق دی"۔ میں نے اس واقعہ کی رپورٹ آن لائن پولیس اسٹیشن میں جمع کروائی، بعد ازاں تھانے جاکر اپنا بیان بھی ریکاڈ کروایا ، پولیس کی تفتیش کے دوران میرے شوہر نے باقاعدہ طلاق دینے کا اعتراف بھی کیا ہے، (پولیس اسٹیشن میں جمع کروائے گئے میرےاورشوہرکے بیانات کی کاپیا ں لف ہیں) ۔
اب میں اپنے شوہرسے قانونی تقاضے پورےکرنے کیلئے تحریری طلاق کا مطالبہ کر رہی ہوں لیکن وہ مسلسل اس پر ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں ،اب پوچھنا یہ ہے کہ:
1۔مذکور صور تحال میں میری طلاق واقع ہو چکی ہے یا نہیں ؟
2۔کیا طلاق واقع ہونے کیلئے تحریر طلاق نامہ کا موجود ہونا ضروری ہے یا نہیں؟
3۔اوراب میری عدت کب سےشروع ہے؟
4۔میں ڈاکٹرہوں جاب کرتی ہوں،اور میری ایک بیٹی بھی ہے،مجھےاپنےاوربیٹی کےاخراجات پورےکرنےکیلئے عدت کےدوران جاب جاری رکھنے کی اجازت ہےیانہیں؟
میرےلیےجوبھی حکم شرع ہو اس پرمطلع فرمائیں۔
واضح ہو کہ وقوعِ طلاق کےلیےشرعی طورپر تحریری دستاویز (طلاق نامہ) شرط نہیں، بلکہ شوہرکی جانب سے زبانی طورپرصریح الفاظ میں الفاظ ِطلاق اداکردینے سےبھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے ایک ہی مجلس میں، اپنے والدین کے سامنے صریح الفاظ کے ساتھ تین مرتبہ کہا"میں نے اسے طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی"تواس سےسائلہ پرتینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہےاب نہ رجوع ہوسکتاہے ، اورنہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدنکاح ہوسکتا ہے، لہذا دونوں پرلازم ہےکہ ایک دوسرےسےعلیحدہ رہیں اورمیاں بیوی والےتعلقات ہرگزقائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گارہوں گے،جبکہ سائلہ عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی، جبکہ عدت کا آغاز اسی وقت سے ہوگا جب طلاق کے الفاظ ادا کیے گئے، اور عدت تین حیض (یا حمل کی صورت میں وضعِ حمل تک) ہوگی۔ اورچونکہ عدت کے دوران کانان نفقہ اوربچی کی کفالت کےاخراجات شرعاًسائلہ کے شوہرکےذمہ ہیں ،جس کاقانوناًبھی اس سے مطالبہ کیاجاسکتاہے، چنانچہ سائلہ کےلیے عدت کے دوران ملازمت کے لیے گھرسے باہرجانے کی گنجائش نہیں ،جس سے احترازلازم ہے ۔
کمافی الھدایۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} [البقرة: 230](ج:2،فصل فیما تحل بہ المطلقۃ،ص:399،مط:شرکت علمیۃ ملتان)۔
وفی الفتای الھندیۃ:المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعياً أو بائناً، أو ثلاثاً حاملاً كانت المرأة، أو لم تكن، كذا في فتاوى قاضي خان(ج:1،الباب السابع عشر في النفقات، ص: 557، مط:ماجدیۃ)
وفیہ ایضاً: إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج۔(ج:1،الباب الثالث عشر في العدۃ، ص: 526، مط:ماجدیۃ)
وفی الدرالمختارشرح تنویرالابصار: (ولا تخرج معتدة رجعي وبائن) بأي فرقة كانت على ما في الظهيرية ولو مختلعة على نفقة عدتها في الأصح اختيار، أو على السكنى فيلزمها أن تكتري بيت الزوج معراج (لو حرة) أو أمة مبوأة ولو من فاسد (مكلفة من بيتها أصلا)الیٰ قولہ: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه،(ج:3، فصل في الحداد، ص:536، مط: ایچ ایم سعید کراچی)