السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان دین اس مسئلے کے بارے میں کہ میری بہن کی شادی 13/05/2022 کو ہوئی تھی ، اس عرصے میں میری بہن بستی رہی اور کئی مرتبہ شوہر کے ساتھ جھگڑے اور اختلافات بھی ہوئے، مگر چشم پوشی ہوتی رہی ، بلآخر ایک جھگڑے کے نتیجے میں 18/03/2026 کو بہن نے فون پر ہمیں کہا کہ مجھے یہاں سے لے جاؤ ، مجھے یہاں نہیں رہنا۔ ہم دو بھائی اپنی بہن کو لینے جب وہاں پہنچے تو کچھ سوالات اور باتوں کی بنیاد پر میرے بہنوئی کی جانب سے تلخ کلامیاں ہوئیں اور اس وقت میرے بہنوئی نے ہمیں یہ کہا کہ میں مائنڈ بنا کر بیٹھا ہوں، دو منٹ میں اسکو( یعنی میری بہن کی طرف اشارہ کر کے کہا) فارغ کر دونگا ، پھر کچھ باتوں کے بعد ایک سوال کے جواب میں میرا بہنوئی کہتا کہ میں ابھی اسے (یعنی میری بہن کی طرف اشارہ کر کے کہا) ایک، دو، تین، طلاق دیتا ہوں پھر تو کوئی سوال بھی باقی نہیں رہے گا۔ پھر مزید کچھ باتوں کے بعد وہ طیش میں آگیا اور اسکے والد صاحب اسکو پکڑ کر دوسرے کمرے میں لے گئے ۔ اسی دوران میری بہن نے اپنی پیکنگ مکمل کر لی اور جب ہم جانے لگے تو پھر وہ واپس اپنے کمرے میں آیا اور میری بہن کو مخاطب کر کے کہا کہ اب تم جارہی ہو تو عیاشیاں کرنا اور کچھ بن کر دکھانا۔ پھر جاتے جاتے میری بہن کا نام لے کر اسے روکا اور اسے کہا سنو میری طرف سے تم اب آزاد ہو ۔۔سمجھی نا۔۔ میری طرف سے تم اب آزاد ہو
یہاں ایک بات واضح رہے کہ میرا بہنوئی ایک طلاق پہلے بھی ایک موقع پر میری بہن کو دے چکا ہے جسکے بعد اس نے رجوع کر لیا تھا، اب پوچھنا یہ ہے کہ میری بہن کے لیے کیا حکم ہے اور کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ ہمیں شریعت کا پورا پورا حکم بتا دیں، جناب کی مہربانی ہوگی۔ جزاکم اللہ خیرا
صورت مسئولہ میں بیان کردہ تفصیل اگر مبنی بر حقیقیت ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو ایسی صورت میں سائل کے بہنوئی کا سائل کی بہن کی طرف اشارہ کرکے کہے گئے مذکور الفاظ "میں ابھی اسے ایک، دو ، تین ، طلاق دیتاہوں" الخ ، سے چونکہ بظاہر طلاق دینے کا فقط ارادہ معلوم ہورہا ہے، باقاعدہ ان الفاظ سے طلاق دینا مقصود نہیں ، چنانچہ مذکور الفاظ سے سائل کی بہن پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی ، البتہ دوسری مرتبہ جب سائل کے بہنوئی نے جاتے وقت اس کی بہن کو روک کر مذکور جملہ " میری طرف سے تم اب آزاد ہو " دو مرتبہ کہا ، تو چونکہ لفظ "آزاد " عرف میں صریح طلاق کیلئے استعمال ہوتا ہے ، اس لئے اس سے سائل کی بہن پر دو طلاق رجعی واقع ہوچکیں ، اور چونکہ سائل کے بقول اس کا بہنوئی اس سے پہلے بھی سائل کی بہن کو ایک طلاق دے چکا ہے، لہذا اس طرح مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوکر سائل کی بہن اس کے بہنوئی پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : ( الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ) الآية ، يدل على وقوع الثلاث معامع كونه منهياعنها،اھ(ج: ١ ، ص : ٣٨٦ )
وفیہ ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت،معصية، اھ (ج:١، ص: ٣٨٧ )
و فی الفتاوی الھندیۃ : و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ (ج:١،ص:٣٥٥،مط: ماجدیۃ)
وفی ردالمحتار : فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لانہ غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ (باب الکنایات،ج:3،ص:299،ناشر:ایچ ایم سعید)
وفي الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله،(باب الرجعة، ج: ٣، ص: ٤١٠، مط: سعيد)