اگر شوہر ۳ طلاقوں سے بچنے کیلئے کچھ صورتوں کو اپنائے جیسے کہ وہ ایک طلاق کو ریکارڈ کرے اور ایڈٹ کرکے اسے ۳ بنا دے جبکہ اصل میں ایک ہی ہو صرف آڈیو میسج میں وہ ۳ لگے یا پھر دوسری صورت کہ وہ لڑکی کا نام غلط لیکر طلاق دے یعنی اسکے والد کی جگہ کسی اور کا نام لیکر طلاق دے مثال کے طور پر لڑکی کا نام ہے ’عروسہ بنتِ ارحم‘ اور جب وہ طلاق دے تو نام لے ’عروسہ بنتِ محسن‘ تو کیا ان دونوں صورتوں میں کیا طلاق واقع ہونگی اگر ہوں گی تو کونسی کیا طلاقِ مغلظہ واقع ہوں گی۔
طلاق کے الفاظ کو ریکارڈ کرنے کے بعد اس میں ایڈیٹنگ کر کے اسے تین بنادینے اور پھر وہ کلپ بیوی یا سسرال والوں کو بھیجنے کی صورت تو مکمل طور پر واضح نہیں اس لئے اس کے متعلق مکمل وضاحت سے قبل کوئی جواب نہیں دیا جاسکتا ،البتہ اگر شوہر بیوی کی ولدیت کے طور پر حقیقی والد کے بجائے کسی اور شخص کا نام درج کردے اور اس کی نیت اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نہ ہو بلکہ طلاق سے بچنے کے لئے اس نے ایسا کیا ہو تو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی،تاہم اس طرح کے اقدامات کرنا چونکہ دھوکہ دہی ،باہمی عدم اعتماد اور تنازعات کا باعث بنتا ہےاس لئے ب اس سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی الھندیۃ:
«قال امرأته عمرة بنت صبيح طالق وامرأته عمرة بنت حفص ولا نية له لا تطلق امرأته فإن كان صبيح زوج أم امرأته وكانت تنسب إليه وهي في حجره فقال ذلك وهو يعلم نسب امرأته أو لا يعلم طلقت امرأته ولا يصدق قضاء وفيما بينه وبين الله تعالى لا يقع إن كان يعرف نسبها وإن كان لا يعرف يقع أيضا فيما بينه وبين الله تعالى وإن نوى امرأته في هذه الوجوه طلقت امرأته في القضاء وفيما بينه وبين الله تعالى كذا في خزانة المفتين.»(ج:1،ص:358،ط:المطبعۃ الکبریٰ الامیریۃ،مصر)