ایک مرتبہ میری اور میری بیوی کی لڑائی ہو گئی ۔ جس میں وہ بحث کا بعد میرے کمرے سے چلی گئی پھر کچھ دیر میں واپس آئ اور کہنے لگی کہ " آپ یا مجھے طلاق دیں یا چھوڑ دیں " ۔اور ایسا اس نے دو تین مرتبہ کہا
جس پر میں کچھ دیر رکا اور سوچا کہ میں نے اسے طلاق تو نہیں دینی تو جو دوسرا لفظ یہ استعمال کر رہی ہے وہ بول دیتا ہوں تاکہ یہ وقتی طور پر میری جان چھوڑ دے اور یہاں سے چلی جائے ۔تو میں نے بولا ٹھیک ہے چھوڑ دیا ۔
جب کہ نیت ہرگز طلاق کی نہ تھی تو کیا اس سے طلاق ہو جاۓ گی ۔ ؟ براہ مہربانی راہنمائ فرما دیں
واضح ہو کہ "چھوڑ دیا" کا لفظ ہمارے عرف میں طلاق صریح کے طور پر استعمال ہوتا ہے، اور اس سے بلا نیت بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے اپنی بیوی کے مطالبہ پر "ٹھیک ہے، چھوڑ دیا" فقط ایک مرتبہ کہا ہو تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے، جس کے بعد دوران عدت سائل کو رجوع کا اختیار حاصل ہے۔چنانچہ سائل اگر دوران عدت زبانی طور پر، جیسے "میں رجوع کرتا ہوں" کہہ کر، یا عملاً بیوی سے بوس و کنار یا ازدواجی تعلق قائم کرکے رجوع کرلیتا ہے تو یہ رجوع درست ہوگا اور میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا۔ بصورتِ دیگر، عدت میں رجوع نہ کرنے کی صورت میں یہ طلاق بائن ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گا، جس کے بعد میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے ساتھ رہنے کے لیے گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا۔بہر دو صورت سائل کو آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، اس لیے آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط کرنی چاہیے۔
کمافی الشامیۃ: فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعی (ج3 ص 299/ باب الکنایات طبع:دارالفکر)
وفی الفتاوی الھندیۃ: الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين سني وبدعي فالسني أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا (ج 1 ص 468 الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به طبع :دارالفکر)