بسم اللہ الرحمن الرحیم
بخدمتِ مفتیانِ کرام
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد از عرضِ ادب گزارش ہے کہ مجھے ایک نہایت اہم شرعی مسئلہ درپیش ہے، جس میں آپ کی رہنمائی درکار ہے:
ایک شخص نے اپنی بیوی کو غصے کی حالت میں یہ الفاظ کہے:
"تم میری طرف سے آزاد ہو"
اس بارے میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1. کیا مذکورہ جملہ کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟
2. اگر طلاق واقع ہو گئی ہو تو یہ ایک طلاق شمار ہوگی یا تین؟
3. ایسی صورت میں رجوع (واپسی) کی کیا صورت ہے؟
- کیا عدت کے اندر رجوع کیا جا سکتا ہے؟
- یا نیا نکاح کرنا ضروری ہوگا؟
4. اگر نیا نکاح ضروری ہو تو اس کی مکمل شرعی ترتیب کیا ہوگی؟
مزید براں یہ بھی رہنمائی فرمائیں:
5. کیا نکاح بذریعہ فون (یعنی لڑکا اور لڑکی یا وکیل کے ذریعے فون پر) شرعاً درست ہے؟
اگر درست ہے تو اس کے لیے کیا شرائط کا پایا جانا ضروری ہے؟
6. مہر کے بارے میں بھی رہنمائی فرمائیں:
- کیا اس صورت میں مہر ادا کرنا لازم ہوگا یا نہیں؟
- اگر لازم ہوگا تو کیا وہی پہلا مہر ہوگا یا نیا مہر مقرر کرنا ہوگا؟
- اور مہر کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟
واضح ہو کہ سوال میں مذکور الفاظ " تم میری طرف سے آزاد ہو " کا استعمال چونکہ عرف میں صریح طلاق کیلئے کیا جاتا ہے، اسی لئے ان الفاظ سے بلانیت بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکور شخص نے اپنی مدخولہ بیوی کو مذکور الفاظ " تم میری طرف سے آزاد ہو " فقط ایک مرتبہ کہہ دیئے ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے ، جس کا حکم یہ ہے کہ شخص مذ کو ر کو دوران عدت رجوع کا اختیار حاصل ہے۔چنانچہ اگر وہ اس دوران زبانی طور پر، جیسے "میں رجوع کرتا ہوں" کہہ کر، یا عملاً بیوی سے بوس و کنار یا ازدواجی تعلق قائم کرکے رجوع کرلیتا ہے تو یہ رجوع درست ہوگا اور میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا۔ بصورتِ دیگر، عدت میں رجوع نہ کرنے کی صورت میں یہ طلاق بائن ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گا، جس کے بعد میاں بیوی کا باہمی رضامندی سے ساتھ رہنے کے لیے گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا۔بہر دو صورت مذکور شخص کو آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، اس لیے آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط کرنی چاہیے۔
جبکہ نکاح کے درست منعقد ہونے کے لئے میاں بیوی کا یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیل کا ایجاب و قبول کے وقت مجلس نکاح میں بنفس نفیس موجود ہونا لازم اور ضروری ہے ، لہذا اگر مجلس عقد میں لڑکا اور لڑکی یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کر لیا تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہوجائے گا اور اس دوسرے نکاح میں مستقل حق مہر کا تعین اور اس کی ادائیگی بھی لازم ہوگی ۔
کما فی الشامیۃ: فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ ج3 ص 299 باب الکنایات ط: دار الفكر-بيروت)
وفی الدرالمختار:ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين." (ج3 ص:14 کتاب النکاح ط:دار الفكر-بيروت)
وفی الھندیۃ:"(ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لاينعقد وكذا إذا كان أحدهما غائبا لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين: زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين: تزوجت فلانة وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت: زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة ذينك الشاهدين، وهذا قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى- ولو أرسل إليها رسولاً أو كتب إليها بذلك كتاباً فقبلت بحضرة شاهدين سمعا كلام الرسول وقراءة الكتاب جاز؛ لاتحاد المجلس من حيث المعنى." (ج1 ص: 269 ط:دار الفكر)
وفی بدائع الصنائع:"ثم النكاح كما ينعقد بهذه الألفاظ بطريق الأصالة ينعقد بها بطريق النيابة، بالوكالة، والرسالة؛ لأن تصرف الوكيل كتصرف الموكل، وكلام الرسول كلام المرسل، والأصل في جواز الوكالة في باب النكاح ما روي أن النجاشي زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم أم حبيبة - رضي الله عنها - فلايخلو ذلك إما أن فعله بأمر النبي صلى الله عليه وسلم أو لا بأمره، فإن فعله بأمره فهو وكيله، وإن فعله بغير أمره فقد أجاز النبي صلى الله عليه وسلم عقده والإجازة اللاحقة كالوكالة السابقة".(ج 2 ص:231 فصل واما رکن النکاح ط:دار الكتاب العربی)