ایک دن گھر سے کام پہ گیا، نہ بیوی سے کوئی جھگڑا ،نہ کوئی اور مسئلہ ہوا تھا، آفس میں بیٹھا تھا کہ موبائل کے میسیج آپشن میں ،موبائل جو کہ بٹن والا تھا جا کر طلاق ٹائپ کیا (ذہن میں یا سوچ میں بیوی اور اسکا موبائل نمبر آرہے تھے اس دوران نظر موبائل کے ڈائل/میسج والے حصے پر تھی،) جو فوراً ڈیلیٹ کر دیا، آگے کچھ اور نہیں لکھا۔ لفظ لکھتے وقت نہ بیوی کا نمبر لکھا اور نہ ہی میسیج بھیجا اور نہ ہی نمبر ڈائل میں لکھا۔ موبائل میں میسیج سینڈ کرنے کے لیے کسی کا نمبر ڈائل نہیں کیا. اس بات کا ذکر بیوی یا کسی سے نہیں کیا کافی پریشانی ہے اور وسوسوں کا شکار ہوں آپ کی رہنمائی درکار ہے اس معاملے میں۔
آپ کی ویب سائٹ میں موجود فتویٰ نمبر 65226 دیکھ کر سوال کرنے کی ہمت ہوئی۔ آپ کی رہنمائی درکار ہے جزاک اللہ
واضح ہو کہ وقوع طلاق کے لیے بیوی کی طرف طلاق کی صراحتاً یا معناً نسبت کرنا ضروری ہے اس کے بغیر طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اور اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، بایں معنیٰ کہ سائل نے میسج کے آپشن میں لفظ "طلاق" ٹائپ کرتے وقت نہ تو بیوی کو طلاق دینے کی نیت وارادہ ہو اور نہ ہی بیوی نے اس طرح کوئی مطالبہ کیا ہو بلکہ غیر ارادی طور پر طلاق کا لفظ لکھا ہو تو ایسی صورت میں محض ذہن یا سوچ میں اس کے نمبر آنے سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
کا فی الدرالمختار: باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة)بالتشديد قيد بخطابها، لأنه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الإضافة إليها (ج3 ص 248 باب صریح الطلاق طبع : دار الفكر-بيروت)
وفیہ ایضا: أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح (ج3 ص 250)
وفی الفتاوی الھندیۃ: وفي الفتاوى رجل قال لامرأته اكر تو زن مني سه طلاق مع حذف الياء لا يقع إذا قال لم أنو الطلاق لأنه لما حذف لم يكن مضيفا إليها (ج1 ص 382 الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ ط: دار الفكر)