کیا فرماتے ہیں مفتیان حضرات مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکے اور ایک لڑکی دونوں نے اپنی نانی کا دودھ پیا ہے، دونوں کی نانی ہے، دونوں نے دودھ اکھٹا ایک وقت میں پیا ہے، ان دونوں کا نکاح ہوچکا ہے، اس وقت رخصتی نہیں ہوئی ہے، نکاح کے بعد پتہ چلا کہ ان دونوں نے نانی کا دودھ پیا ہے، لہٰذا آپ حضرات قرآن اور حدیث کی روشنی میں جواب تحریر فرمادیں، تاکہ گناہ (سے بچ جائے)، اگر گناہ نہ ہو تو پھر شادی یعنی رخصتی ہوجائے ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً مذکور لڑکا، لڑکی نے مدتِ رضاعت یعنی دوسال کی عمر کے اندر اپنی نانی کا دودھ پیا ہو تو ان کے درمیان رضاعت کا رشتہ قائم ہوجانے کی وجہ سے وہ دونوں رضاعی بہن ،بھائی بن چکے ہیں، اور جس طرح حقیقی بہن، بھائی کے درمیان نکاح حرام ہے، بعینہ اسی طرح رضاعی بہن، بھائی کے درمیان بھی حرام ہے، چنانچہ اگر یہ نکاح مسئلہ سے لاعلمی میں ہوا تھا تو یہ نکاح درست منعقد نہیں ہوا، بلکہ فاسد ہے، لہٰذا رخصتی کرنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ لڑکے پر لازم ہے کہ متارکت کے الفاظ مثلاً میں نے چھوڑ دیا وغیرہ کہہ کر اس کو الگ کردے، تاکہ لڑکی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو۔
کما فی قولہ تعالٰی : حرّمت عليكم أمّهٰتكم وبناتكم وأخوٰتكم وعمّٰتكم وخٰلٰتكم وبنات الأخ وبنات الأخت وأمّهٰتكم الّٰتى أرضعنكم وأخوٰتكم من الرّضاعة الخ۔ (الآیة:23،سورہ النسآء)۔
وفي سنن ابي داؤد: عن عروة عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة(باب يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب،ج:1،ص:866،ط:بشری)۔
وفي الدر المختار: وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة، والوطء بها لا يكون زنا اھ۔
وفی الشامیۃ : (قوله: وبحرمة المصاهرة إلخ) قال في الذخيرة: ذكر محمد في نكاح الأصل أن النكاح لا يرتفع بحرمة المصاهرة والرضاع بل يفسد حتى لو وطئها الزوج قبل التفريق لا يجب عليه الحد اشتبه عليه أو لم يشتبه عليه. اهـ.۔(قوله: إلا بعد المتاركة) أي، وإن مضى عليها سنون كما في البزازية، وعبارة الحاوي إلا بعد تفريق القاضي أو بعد المتاركة. اهـ.۔ وقد علمت أن النكاح لا يرتفع بل يفسد وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول، إن كانت مدخولا بها كتركتك أو خليت سبيلك، وأما غير المدخول بها فقيل تكون بالقول وبالترك على قصد عدم العود إليها،وقيل: لا تكون إلا بالقول فيهما، حتى لو تركها، ومضى على عدتها سنون لم يكن لها أن تتزوج بآخر فافهم اهـ. (فصل فی المحرمات، ج: 3، ص: 37، م: سعید)۔
وفیھا ایضاً : (قوله أو متاركة الزوج) في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة. أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق، وعدم مجيء أحدهما إلى آخر بعد الدخول ليس متاركة لأنها لا تحصل إلا بالقول. وقال صاحب المحيط: وقبل الدخول أيضا لا يتحقق إلا بالقول اھ (مطلب فی النکاح الفاسد،ج:3، ص: 133، م: سعید)۔
وفی الھندیۃ : قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية. قال في الينابيع. والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف كذا في السراج الوهاج، ووقت الرضاع في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - مقدر بثلاثين شهرا وقالا مقدر بحولين هكذا في فتاوى قاضي خان اھ (کتاب الرضاع،ج: 1، ص: 355، م: ماجدیۃ)۔
وفی الھدایۃ : وكل صبيين اجتمعا على ثدي امرأة واحدة لم يجز لأحدهما أن يتزوج بالأخرى " هذا هو الأصل لأن أمهما واحدة فهما أخ وأخت (کتاب الرضاع، ج: 2، ص: 371، م: رحمانیۃ)۔
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0