السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ
مفتی صاحب سے میرا یہ سوال ہے میں نے نادانی میں دوران نکاح اپنی زوجہ کو رخصتی سے پہلے کہا تھا جاؤ تم آزاد ہو ڈھونڈ لو کوئی مجھ سے بہتر میرا ارادہ طلاق دینا نہیں تھا میں۔
اب کیا سے طلاق بائن ہوگئی یا نہی۔ اب دوبارہ نکاح کرنا ہوگا۔
براہ کرم رہنمائی فرمائیں
جزاک اللہ۔
واضح ہو کہ بیوی کے لیے "تم آزاد ہو" یا "میں تمہیں آزاد کرتا ہوں" کے الفاظ چونکہ عرف میں طلاق صریح کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اس لیے ان سے بلا نیت بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر سائل اور اس کی زوجہ کے درمیان خلوتِ صحیحہ (یعنی ایسی تنہائی جس میں ہمبستری سے کوئی شرعی، طبعی یا حسی مانع موجود نہ ہو) واقع نہ ہوئی ہو، اور اس دوران سائل نے اپنی زوجہ سے یہ الفاظ کہے ہوں "جاؤ، تم آزاد ہو، ڈھونڈ لو کوئی مجھ سے بہتر" تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے۔
اور خلوتِ صحیحہ واقع نہ ہونے کی صورت میں ، اس لیے عورت بلا کسی عدت کے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔ البتہ اگر دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو نئے حق مہر کے ساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کرنا ہوگا اور شوہر کو آئندہ کے لیے صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، اس لیے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کمافی الشامیۃ: فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ (ج3 ص 299 باب الکنایات ط:دار الفكر-بيروت)
وفی الدر المختار للحصفكي: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق (ج3 ص 286 باب الکنایات ط:دار الفكر-بيروت)
وفیہاایضاً:(وسبب وجوبها) عقد (النكاح المتأكد بالتسليم وما جرى مجراه) من موت، أو خلوة أي صحيحة، فلا عدة بخلوة الرتقاء (ج3 ص 504 باب العدۃ ط:دار الفكر-بيروت)