میں نے اپنی بیوی کو ایک ہی عدت میں تحریری طور پر تین طلاقیں دیں کیونکہ مجھے میرے وکیل نے گمراہ کیا تھا کہ آپ کو تین طلاقیں دینے کی ضرورت ہے ورنہ طلاق نہیں ہو گی۔ مجھے یہ علم نہیں تھا کہ ایک طلاق حتمی ہے اور اگر عدت کے بعد ضرورت ہو تو ایک طلاق کے بعد دوبارہ نکاح کر سکتے ہو۔ میں اپنی بیوی کے پاس واپس جانا چاہتا ہوں، براہ کرم مجھے اجازت دیں کیونکہ میری بیوی نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی اور اس کے والد کا بھی گزشتہ ماہ انتقال ہو گیا تھا۔
اللّہ تعالی نے ایک مسلمان کے ذمہ جو فراٗض عائد کیئے ہیں ان میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی بھی معاملہ میں کوئی بڑا قدم اٹھانے سے پہلے اس کے شرعی مسائل کا علم حاصل کرے اور ایک مسلمان کے لئے دینی مسائل و احکام سے بے خبر ہونا شرعا کوئی عذر نہیں ، سائل نے ایک مرتبہ جب تحریری طور پر تین طلاقیں دے دی ہیں ( اگر چہ اس نےو کیل کے کہنے پر لاعلمی میں ایسا کیا ہو )تب بھی شرعا سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدتِ طلاق گزرنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرے ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقیق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تا کہ زوج اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے مکروہ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے، البتہ بغیر شرط کے بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
وفی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية(فصل فیماتحل بہ المطلقۃومایتصل بہ)۔