نکاح کے بعد کب تک طلاق ہوتی ہے اگر صرف نکاح ہو ؟
واضح ہو کہ وقوع طلاق کے لئے شوہر کی جانب سے باقاعدہ الفاظ طلاق بولنا یا بیوی کے مطالبہ خلع پر اسے خلع دینا ضروری ہے ،نکاح کے بعد میاں بیوی کے علیحدہ رہنے یا رخصتی نہ کرانے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ،تاہم نکاح ہوجانے کے بعد بلاوجہ رخصتی میں تاخیر کرنا یا رخصتی ہوجانے کے باوجود شوہر کا بیوی سے طویل عرصہ کے لئے الگ رہنا یا اس کی حقوق کی ادائیگی میں کوتا ہی کرنا درست نہیں اس سے اجتناب ضروری ہے۔
کما فی الشامیۃ: (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر (ج3 ص 230 کتاب الطلاق ط: دارالفکر بیروت)
وفی المبسوط للسرخسی :والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد. (ج6 ص 173 باب الخلع ط: دار المعرفة - بيروت)