میرے والد نے میری والدہ کو تقریبا 25 سال پہلے طلاق دی۔ جو والدہ کے بقول 3 بار "طلاق طلاق طلاق" کہا اور والد کے بقول ایک طلاق دی۔اب اس عید الفطر پر والد نے کہا "جا تجھے طلاق" اتنا کہنے کے بعد بڑے بھائی نے والد کے منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش کروادیا۔ کچھ دن بعد جب صلح کے لئے بات کی تو 2 بار کہا یہ میری طرف سے آزاد ہے، جہاں مرضی جائے۔ اس کے بعد ماہانہ خرچ بھی دیا۔ جب مسئلہ پوچھا تو علماء نے کہا آزاد کے الفاظ کے لئے نیت پوچھی جائے گی۔
پھر والد سے بات کی اور کہا کہ اگر آزاد طلاق کی نیت سےکہا جائے تو طلاق ہو جاتی ہے آپ نیت بتائیں۔ پھر کہتے میری طرف سے جہاں مرضی جائے اور اس بار آزاد کے الفاظ نہیں بولے۔ پھر کچھ دن بعد بات کی اور نیت پوچھی تو خاموش ہوگئے، کوئی جواب نہیں دیا ۔ براہ مہربانی آپ مسئلہ پر غور کر کے بتا دیجئے کہ تین طلاق ہو گئی ہیں یا نہیں؟ دونوں کی عمر 60 سے زیادہ ہے۔ اگر طلاق ہو گئی ہے تو کیا عورت اپنے سابقہ خاوند کے گھر رہ سکتی ہے؟ کیونکہ بیٹوں کا الگ گھر نہیں اور ابھی بچوں کی شادیاں بھی کرنی ہے۔ اگر رہ سکتی ہے تو کن پابندیوں کے ساتھ؟ جزاک اللہ۔
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق سائل کی والدہ 25 سال قبل شوہر کے خلاف تین طلاقیں دینے کا دعوی کررہی ہے، جبکہ سائل کا والد ایک طلاق کا دعویٰ کررہا ہے، چنانچہ اگر سائل کی والدہ کے پاس اپنے اس دعویٰ پر شرعی گواہان موجود نہیں تھے اور شوہر نے حلفیہ بیان کے ساتھ بیوی کے دعویٰ کی تردید کردی تھی تو ایسی صورت میں قضاءً ایک طلاقِ رجعی کے وقوع کا حکم لگے گا، البتہ سائل کی والدہ کو جب اپنے کانوں سے تین طلاق کا سننا یقینی طور پر یاد تھا تو اس کے لیے دیانۃً شوہر کے ساتھ بیوی کی حیثیت سے رہنا شرعاً جائز نہیں تھا، بلکہ کسی طرح طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ شوہر سے علیحدگی لازم تھی۔
بہر کیف اگر سائل کے والد کی بات مانتے ہوئے قضاءً ایک طلاق رجعی کا حکم لاگو ہو اور دوران عدت سائل کے والد نے رجوع کرلیا تھا تو رجوع درست ہوکر دونوں کا نکاح برقرار تھا، البتہ جب حالیہ واقعہ میں سائل کے والد نے اپنی بیوی کو مذکورہ الفاظ ”جا تجھے طلاق“ کہے تو بیوی پر دوسری طلاق رجعی بھی واقع ہوگئی اور پھر کچھ دنوں کے بعد جب یہ الفاظ ”یہ میری طرف سے آزاد ہے“ دو مرتبہ کہے تو اس سے تیسری طلاق بھی واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، جبکہ چوتھی طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
البتہ اگر عدت کے بعد بھی عورت کے لیے بامر مجبوری شوہر کے گھر میں ہی رہنا پڑجائے، اس کے علاوہ کوئی اور صورت ممکن نہ ہو تو مکمل شرعی پردہ کے اہتمام کے ساتھ اس کی گنجائش ہے، البتہ نکاح ختم ہوجانے کے بعد چونکہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن گئے ہیں، لہذا دونوں کا میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنے، گپ شپ لگانے، تنہائی اختیار کرنے اور بے محابا آمنا سامنا کرنے سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
ففي الفتاوى الهندية: «ولو قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أنت طالق إلا واحدة يقع الثلاث كذا في البحر الرائق» (1/ 457)
وفي حاشية ابن عابدين: «والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.» (3/ 251)
وفيه أيضا: «بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت» (3/ 299)
وفي الدر المختار: «وسئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف» (3/ 538)
وفي حاشية ابن عابدين: «(قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك والظاهر أن التقييد بكون سنهما ستين سنة وبوجود الأولاد مبني على كونه كان كذلك في حادثة السؤال كما أفاده ط» (3/ 538)