میرا یہ سوال ہے کیا auto correct کی وجہ سے کوئی بندہ جملہ میں Taluq لکھنا چاہتا تھا لیکن آٹو کریکٹ کی وجہ سے Talaq لکھ دیا اور سینڈ بھی نہیں کیا،نا تو میری نیت تھا اور ناہی کو لڑائی جھگڑا ،ہماری بات بھی ہمارے تعلقات کے بارے میں ہو رہی تھی،میں بہت پریشان ہوں۔
سائل نے میسج میں لکھا جانے والا پورا جملہ ذکر نہیں کیا، تاکہ اس لفظ کے سیاق و سباق پر غور کرکے کوئی حکم بیان کیا جاتا۔ تاہم سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق اگر سائل واقعۃً "Taluq" (تعلق) لکھنا چاہتا تھا، اور گفتگو بھی تعلقات (Relationship) کے بارے میں ہو رہی تھی، تو محض Auto Correct کی وجہ سے "Taluq" (تعلق) کے بجائے "Talaq" (طلاق) لکھے جانے سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ لہٰذا سائل کو بلاوجہ وسوسوں میں مبتلا ہوکر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
کما فی ردالمحتار: (قوله أو لم ينو شيأ) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية ولكن لابد في وقوعه قضاءو ديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر، إحترازا عما لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، أو كتب ناقلا من كتاب إمراتي طالق مع التلفظ أو حكى يمين غيره فإنه لا يقع اصلا ما لم يقصد زوجته. (مطلب في قول البحر، 250/3، ط: سعيد)