کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ مجھے میرے شوہر نے آج سے آٹھ سال قبل لڑائی جھگڑے کے دوران تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے تھے ،" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" اور ان الفاظ کے گواہ میرا ایک بیٹا عمر 26 سال اور ایک بیٹی عمر 29 سال موجود تھیں، اور اس کے بعد سے اب تک ہمارے درمیان میاں بیوی کے کوئی تعلقات نہیں ہیں ،لیکن اولاد کی خاطر ایک ساتھ رہ رہے ہیں، اور ان آٹھ سالوں میں بھی پھر سے لڑائی جھگڑے میں کئی مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں جبکہ شوہر کا کہنا ہے کہ مجھے جہاں تک یاد ہے آٹھ سال پہلے میں نے دو مرتبہ کہا تھا، البتہ اس کے بعد بھی مختلف مواقع میں لڑائی کے دوران طلاق کے الفاظ بولے ہیں، بیوی کا کہنا ہے کہ اس لڑائی کے بعد تین مہینے کے دوران (عدت کے دوران) میں بھی یہی الفاظ بول چکا ہے،اور شوہر اس کا اقرار بھی کرتا ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں، اور اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ نوٹ: طلاق کی صورت میں ایک گھر میں پردے کےساتھ رہ سکتے ہیں؟
صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائلہ کا شوہر آٹھ سال قبل لڑائی جھگڑے کے دوران دو مرتبہ صریح الفاظ میں طلاق دینے اورپھر اس طلاق کی عدت کے دوران مزید متعدد بار الفاظِ طلاق ادا کرنے کا اقرار کرتا ہے، لہذا اس سے سائلہ پر تینوں طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ عقدِ نکاح جائز ہے، نیز تین طلاقوں کے بعد سائلہ اور اس کے سابقہ شوہر کے لیے میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا جائز نہیں، جس سے اجتنا ب لازم ہے ،تا ہم اگر کسی عذر کی وجہ سے دونوں میاں بیوی اپنی اولاد کے ساتھ ایک گھر میں رہنا چاہیں اور ایک ساتھ گھر میں رہنے کی وجہ سے کسی قسم کے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں سائلہ اور اس کا سابقہ شوہر ایک گھر میں ایک دوسرے سے اجنبی کی طرح مکمل پردہ کا اہتمام کرتے ہوئے اپنی اولاد کے ساتھ علیحدہ علیحدہ رہا ئش اختیار کر سکتے ہیں، لیکن اگر ان حدود و قیود کا خیال رکھنا ممکن نہ ہو یا پھر کسی قسم کے فتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں دونوں کو بالکل الگ الگ مکان میں رہائش اختیار کرنا لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: سئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف.الخ اھ ۔
وفی رد المحتار : تحت (قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك والظاهر أن التقييد بكون سنهما ستين سنة وبوجود الأولاد مبني على كونه كان كذلك في حادثة السؤال كما أفاده ط اھ(کتاب الطلاق،فصل فی الحداد، ج: 3، ص:538، م: سعید)۔