میرے شوہر نے مجھے زبانی طلاق دے دی تھی، لیکن بعد میں انکاری ہو گئے تھے۔ پھر میں نے فتویٰ لیا کہ اس صورتِ حال میں مجھے کیا کرنا چاہیے، تو مجھے تحکیم کا مشورہ دیا گیا۔ تحکیم ہوئی اور مجھے کچھ میسجز ثبوت کے طور پر مل گئے، جن میں میرے شوہر کو ثالث کے فیصلے پر راضی ہونا پڑا۔لیکن اب وہ میسجز میرے پاس نہیں ہیں، کیونکہ میرا موبائل اسنیچ ہو گیا تھا۔ اس طرح میرے پاس کوئی ثبوت نہیں بچا۔ اس کے بعد میں نے دوسری شادی کر لی۔میرا پچھلا نکاح اور طلاق رجسٹرڈ نہیں ہوئی تھی۔ میرا پچھلا شوہر، جو تقریباً ذہنی مریض ہے، کیا کبھی واپس آ کر یہ کہہ سکتا ہے کہ طلاق ہوئی ہی نہیں تھی، اور چونکہ میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے، اس لیے کیا مسئلہ بن سکتا ہے؟میرے پاس ابھی کچھ ایسے ثبوت موجود ہیں کہ جن لوگوں نے فیصلہ دیا تھا، وہ میرے پرانے میسجز تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے طلاق کے بارے میں فیصلہ دیا تھا۔ لیکن اب اچانک وہ لوگ میرے میسجز کا کوئی جواب نہیں دے رہے۔مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھے وہ پرانے میسجز دوبارہ فراہم کر سکیں گے یا نہیں۔ ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئیے؟
سائلہ نے سوال میں اس بات کی تصریح نہیں کی کہ اس کے شوہر نے اسے کتنی طلاقیں دی تھیں اور حَکَم (ثالث )نے کیا فیصلہ سنایا تھا تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا۔ تاہم اگر اس کے شوہر نے تین طلاقیں دی ہوں اور ثالث( حکم )نے بھی تین طلاقوں کا فیصلہ کیا ہو جس پر شوہر بھی راضی ہوگیا تھا نیز سائلہ نے اپنے کانوں سے شوہر کو تین طلاقیں دیتے ہوئے سنا بھی ہو تو ایسی صورت میں اس کا نکاح شوہرِ اول سے ختم ہوگیا تھا۔ اس لئے عدت کے بعد اس کا کسی دوسرے شخص سے نکاح بھی درست منعقد ہوا ہے جس کے ساتھ بلا کسی تردد کے ازدواجی حیثیت سے رہنا اس کے لیے جائز ہے، اگرچہ سرکاری ریکارڈ میں اس کی طلاق اور دوسرے شخص سے نکاح رجسٹرڈ نہ ہوا ہو۔
سائلہ اگر قانونی پیچیدگیوں سے بچنا چاہتی ہو تو اس کو چاہیئے کہ خلع کا کیس دائر کرکے خلع کی ڈگری حاصل کرے اور اگر بالفرض شوہرِ اول پھر مدعی بن کر سامنے آجائے تو اس موقع پر اس کا دعویٰ علماءِ دین و مفتیانِ کرام کے سامنے رکھ کر رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
کما فی الفتاوى الهندية: والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها. الخ (فصل فیمن یقع طلاقہ الخ ج:1 ص:354 ط: دار الفکر بیروت)۔
و فی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: وفي التتارخانية وغيرها سمعت المرأة من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها إلا بقتله لها قتله بالدواء ولا تقتل نفسها وقيل لا تقتله وبه يفتى وترفع الأمر إلى القاضي فإن لم تكن لها بينة تحلفه فإن حلف فالإثم عليه لكن إن قتلته فلا شيء عليها. الخ(باب الرجعۃ ج:1 ص:441 ط: دار احیاء التراث العربی۔بیروت)۔
و فی رد المحتارتحت (قوله دين فقط)۔۔۔۔۔والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله. الخ(باب صریح الطلاق ج:3 ص:251 ط: سعید)۔