السلام علیکم
بعد ازاں گزارش یہ ہے کہ ہم میاں بیوی کے درمیان کچھ ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن کی وجہ سے طلاق کے وقوع یا عدمِ وقوع کے بارے میں شدید تشویش ہے، براہِ کرم درج ذیل تفصیل کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائیں:
بیوی کا بیان:میرا نام مہرین ہے، میرے شوہر اکثر غصے میں ایسے الفاظ کہتے رہتے ہیں، جیسے"تجھے چھوڑ دیا” "بس اب ختم"(یہ الفاظ کئی مرتبہ بولے ہیں، لیکن اس کے بعد بھی ہم بدستور میاں بیوی کی طرح رہ رہے ہیں)، تقریباً دو ماہ قبل میرے شوہر اور ان کی والدہ کے درمیان جھگڑا ہوا، جس میں میری ساس نے میری برائیاں کیں، اس پر میرے شوہر نے کہا "طلاق دے دوں، طلاق دے دیتا ہوں، آپ میری دوسری شادی کرا دیں" اور پھر سب کے سامنے بار بار کہا (مطلب ایک سے زائد مرتبہ بولا) "نہیں، میں اسے ابھی طلاق دے رہا ہوں" اور مجھے دروازے کی طرف اشارہ کرکے جانے کو کہا (شوہر کا کہنا ہے کہ یہ الفاظ میں نے صرف دو مرتبہ بولے ہیں)، بعد میں جب میں گھر سے نکل گئی تو وہ مجھے واپس لینے آئے اور کہا کہ انہوں نے اس طرح نہیں کہا، پھر انہوں نے یہ بھی کہا، "میں نے دو بار کہا ہے"لیکن قسم کھانے سے انکار کیا، بعد ازاں انہوں نے اپنی والدہ کے سامنے بھی کہا "میں نے دو بار کہا ہے" جس پر ان کی والدہ نے کہا کہ اب ایک موقع باقی ہے۔پھر حال ہی میں ایک واقعہ پیش آیا، گھر میں مہمان آنے والے تھے، میں بیمار اور تھکی ہوئی تھی، اس لئے میں نے باہر سے کھانا منگوانے کا کہا، اس پر بحث ہوئی، میرے شوہر نے مہمانوں کے ساتھ نیچے کھانا کھا لیا اور مجھے اطلاع نہیں دی، بعد میں جب میں نے کھانا مانگا تو انہوں نے کہا "مجھ سے کھانا مت مانگو، میں ابھی الفاظ منہ سے نکال دوں گا، رشتہ ختم کر دوں گا، پھر اپنے باپ کے گھر جا کر کھانا کھانا" پھر کہا "اپنے باپ کو بلا لو، وہ آ کر لے جائیں گے" اور آہستہ لہجے میں کہا "اپنے باپ کو فون کرکے بلا لو اور کہہ دینا کہ عدیل نے طلاق دے دی ہے"(یہ جملہ ایک مرتبہ بولا، شوہر بھی ایک مرتبہ کا اقرار کرتا ہے)، اس کے بعد جھگڑا بڑھ گیا، اور انہوں نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا، جیسا کہ پہلے بھی کئی بار ہو چکا ہے، ان کی والدہ نے بھی مجھے مارا اور گھر سے نکالنے کو کہا، اگلے دن میرے شوہر نے مجھے روکا، ناشتہ کروایا، ڈاکٹر کے پاس لے گئے، اور کہا کہ “میں نے تمہیں طلاق نہیں دی، نہ پہلے دی، نہ اب دی” میں شدید ذہنی پریشانی میں ہوں، اور اپنے نکاح کے بارے میں شرعی اطمینان چاہتی ہوں۔شوہر (عدیل) کا بیان:میرا نام عدیل ہے، میں یہ وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے جو بھی الفاظ کہے، ان کا مقصد حقیقی طور پر طلاق دینا نہیں تھا بلکہ گھر کے حالات کو کنٹرول کرنا اور لڑائی جھگڑا ختم کرنا تھا، گھر میں مسلسل جھگڑوں کی وجہ سے میں ذہنی طور پر پریشان تھا، اور میں چاہتا تھا کہ میری بیوی اور میری والدہ کے آپس میں سکون سے رہیں، میری بیوی اکثر بغیر پوری بات سمجھے بات کرتی ہے، جس کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، وہ بعض اوقات مجھ سے اونچی آواز میں اور سخت لہجے میں بات کرتی ہے، اور میری بات نہیں سنتی، جس سے مجھے غصہ آ جاتا ہے، جہاں تک اس جملے کا تعلق ہے “میں اسے ابھی طلاق دے رہا ہوں” تو میرا مقصد حقیقی طلاق دینا نہیں تھا بلکہ صرف دباؤ ڈالنا اور سامنے والے کو خاموش کرانا تھا، اسی طرح جب میں نے کہا "اپنے باپ کو فون کرکے بلا لو اور کہہ دینا کہ عدیل نے طلاق دے دی ہے"تو اس سے بھی میرا مقصد طلاق دینا نہیں تھا بلکہ غصے اور دباؤ کی کیفیت میں بات کرنا تھا، مزید یہ کہ میری بیوی نے جو یہ کہا کہ میں نے مہمانوں کے ساتھ کھانا کھایا، یہ مکمل درست نہیں، میں نے صرف چار نوالے کھائے تھے، اور میری نیت یہی تھی کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ کھانا کھاؤں، جب میں مہمانوں کے ساتھ اوپر جا رہا تھا تو دروازے پر میری بیوی آ گئی اور مہمانوں کے سامنے اونچی آواز میں مجھ سے بات کرنے لگی، میں نے اسے بار بار خاموش رہنے کو کہا، لیکن وہ خاموش نہیں ہوئی، یہاں تک کہ میرے کزن نے بھی اسے سمجھانے کی کوشش کی، مگر وہ اپنی بات پر قائم رہی اور کسی کی بات سننے کو تیار نہیں تھی، میں واضح طور پر یہ بیان کرتا ہوں کہ میرا نہ پہلے طلاق دینے کا ارادہ تھا اور نہ اب ہے، اور میں اپنی بیوی کے ساتھ نکاح برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔
مشترکہ سوالات:
1۔ مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں کیا ہمارے درمیان کوئی طلاق واقع ہوئی ہے؟
2۔ اگر ہوئی ہے تو وہ صریح ہے یا کنایہ، اور اس کی تعداد کیا شمار ہوگی؟
3۔ اگر ایک یا زیادہ طلاق واقع ہو چکی ہو تو کیا رجوع کی گنجائش باقی ہے؟
4۔ آئندہ کے لیے ہمیں کن امور کا خاص خیال رکھنا چاہیئے ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل کی بیوی اس پر مختلف مواقع پر تین سے زائد مرتبہ طلاق دینے کا دعویٰ کر رہی ہے، جبکہ شوہر مسمّیٰ عدیل ان مواقع میں دو موقع پر طلاق بولنے کا اقرار کر رہا ہے، جس میں ایک موقع پر دو مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ "میں اسے ابھی طلاق دے رہا ہوں" اور دوسرے موقع پر ایک مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ "اپنے باپ کو فون کرکے بلا لو اور کہہ دینا کہ عدیل نے طلاق دے دی ہے"،چنانچہ ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدتِ طلاق گزرنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرے ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقیق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تا کہ زوج اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے مکروہ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے، البتہ بغیر شرط کے بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
كما قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة:٢٣٠]
وفي تفسير المظهرى: وقوله تعالى فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ له من بعد لان قوله تعالى الطلاق على هذا التأويل يشتمل الطلقات الثلاث أيضا وعلى كلا التأويلين يظهران جمع الطلقتين او ثلاث تطليقات بلفظ واحد أو بألفاظ مختلفة فى طهر واحدحرام بدعة مؤثم خلافا للشافعى فانه يقول لا بأس به- لكنهم أجمعوا على انه من قال لامراته أنت طالق ثلاثا يقع ثلاثا بالإجماع اھ(سورة البقرة:٢٣٠،ج:١،ص:٣٣٤،ط:التراث)
وفي حاشية ابن عابدين:ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت اھ(باب الكنايات،ج:٣،ص:٢٩٩،ط:سعيد)
وفي الهندية: في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا اھ(الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية،ج:١،ص:،٣٨٤،ط:ماجدية)
وفيها ايضاً : إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اھ(فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:١،ص:٤٧٣،ط:ماجدية)