طلاق

حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر سے چھٹکارے کا طریقہ

فتوی نمبر :
94859
| تاریخ :
2026-05-02
معاملات / احکام طلاق / طلاق

حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر سے چھٹکارے کا طریقہ

السلام علیکم ، مفتى صاحب! میرا میاں 6 سال سے نشہ کر رہے ہیں ، اور میں بہت مشکل سے گزارہ کر رہی ہوں، میں چاہتی ہوں کہ میں شادی کر لوں، تو کیا میں اپنے شادی کرسکتی ہوں؟ کیونکہ میرے شوہر آتے نہیں ہیں، اور وہ کہاں ہے مجھے پتہ بھی نہیں ہے، اور میرے 6 بچے ہیں، گھر میرا کرایہ کا ہے، تو آپ مجھے بتائیں کیا میری ایسے شادی ہو سکتی ہے 6 سال سے میرے شوہر لاپتہ ہیں ؟ شکریہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ میاں بیوی خواہ جتنا ہی عرصہ ایک دوسرے سے الگ رہیں، لیکن جب تک ان کے درمیان باقاعدہ طلاق یا خلع کے ذریعہ علیحدگی اور عدت مکمل نہ ہو تو اس وقت تک بیوی کے لئے کسی اور جگہ نکاح کرنے کی اجازت نہیں، لہذا سائلہ کے شوہر نے اگر اسے طلاق نہ دی ہو تو محض الگ رہنے اور نان و نفقہ نہ دینے کی وجہ سے وہ دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی اور نہ ہی دوسرا نکاح شرعاً منعقد ہوگا، البتہ اگر سائلہ کا شوہر واقعۃً نشہ کی عادت میں مبتلا ہو، اور وہ گھر سے غائب رہتا ہو، سائلہ اور اس کی اولاد کا نان نفقہ نہ دیتا ہو اور نہ ہی اس کا کوئی انتظام ہو توایسی مجبوری میں سائلہ کے لئے بذریعہ عدالت نان و نفقہ نہ دینے اور حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر فسخ نکاح کا حق حاصل ہوگا۔
جس کا طریقہ یہ ہے کہ سائلہ اپنا مقدمہ مسلمان حاکم (حج) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو جائے تو اس کے خاوند سے کہا جائے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو ، ورنہ ہم تفریق کر دیں گے، اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی اور وہ عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح بھی کر سکے گی، اور عدت کی ابتدا قاضی کے فیصلہ کے دن سے ہو گی۔
یاد رہے کہ عدالت میں جو مقدمہ دائر کیا جائے وہ شوہر کے متعنت ہونے کی بنیاد پر ” تنسیخ نکاح “ کا مقدمہ دائر کیا جائے، خلع کا مقدمہ دائر نہ کیا جائے اور نہ ہی خلع کا طریقہ کار اختیار کیا جائے، ورنہ فسخ نکاح معتبر نہ ہو گا۔ جبکہ عورت کے پاس اپنا دعوی ثابت کرنے کیلئے اگر گواہ بھی نہ ہوں (تو ایسی صورت میں چونکہ شوہر سے قسم لی جاتی ہے، لیکن اگر وہ عدالت میں حاضر ہی نہ ہو) تو شوہر کے پاس بار بار " تنسیخ نکاح کا نوٹس پہنچنے کے باوجود اس کا عدالت میں حاضر نہ ہونا حکما ً "نکول عن الیمین " شمار ہو گا، اور اس کے خلاف قاضی کا فیصلہ شرعاً بھی معتبر ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الحاوي الكبير: فإن قال المدعي ليست لي بينة فقد اختلف أصحابنا: هل يكون هذا الامتناع من الحضور كالنكول في رد اليمين على المدعي أم لا؟ على وجهين: أحدهما: أنه لا يجعل نكولا، لأن النكول بعد سماع الدعوى، وسؤاله عن الجواب، فيصيران شرطين في النكول، وهما مفقودان مع عدم الحضور. والوجه الثاني: وهو أشبه أن يجعل كالنكول بعد النداء على بابه بمبلغ الدعوى وإعلامه بأنه يحكم عليه بالنكول لوجود شرطي النكول في هذا النداء، فعلى هذا يسمع القاضي الدعوى محررة، ثم يعيد النداء على بابه ثانية بأنه يحكم عليه بالنكول. فإذا امتنع من الحضور بعد النداء الثاني، حكم بنكوله، ورد اليمين على المدعي، وحكم له بالدعوى إذا حلف. (استدعاء الخصم إن كان امرأة) اهـ (كتاب قاض إلى قاض، باب ما على القاضي في الخصوم والشهود، فصل: استدعاء الخصم، ج:16 ص:302 ط: دار الكتب العلمية بيروت)
وفي ضوء الشموع شرح المجموع: وإن منعها نفقة الحال) أما الماضية فينظر بها كالدين (فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق، أو طلق وإلا طلق عليه اهـ
وفي حاشيته تحت قوله: (وإلا طلق) أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم (قوله: تلوم له الخ) (إلى قوله) فإن تطوع بالنفقة أحد قريب، أو أجنبي، قال أبو القاسم بن الكاتب: لها أن تفارق؛ لأن الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبد الرحمن: لا مقال لها؛ لأن سبب الفراق وهو عدم النفقة قد انتفى، وهو الذي تقضيه (المدونة) كما قال ابن المناصف أنظر (الحطاب) [باب النفقات، ج:2 ص:540 ط: دار يوسف بن تاشفين]
وفي الحیلة الناجزة: وأما المتعنت الممتنع عن الاتفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرۃ انفق أو طلق، وإلا طلق علیہ، قال محشیہ: أی طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم الخ (ص: 150 ط: دار الإشاعت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94859کی تصدیق کریں
1     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • گھر والوں کی دباؤ میں آکر طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
Related Topics متعلقه موضوعات